Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 49 of 90

ان الفاظ سے طلاق نہ ہوگی اگرچہ نیت کی ہو: مجھے تیری حاجت نہیں ،مجھے تجھ سے کام نہیں، مجھے تجھ سے غرض نہیں، تو مجھے درکار نہیں، میں تجھے نہیں چاہتا، مجھے تجھ سے رغبت نہیں۔

صریح طلاق کی تین قسمیں:

1: طلاق احسن: یہ طلاق دینے کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ جب عورت ایام حیض کے بعد پاک ہوجائے تو شوہر اس سے صحبت نہ کرے اور اسے ایک طلاق دے کر چھوڑ دے یہاں تک کہ عدت گزر جائے ۔ یہ طلاق رجعی ہے اگر عدت کے دوران شوہر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اور اگر عدت گزر جائے تو نئے سرے سے نکاح کر کے اس سے رشتہ جوڑ سکتا ہے۔

2: طلاق حسن: اس کا طریقہ یہ ہے کہ پاکیزگی کی حالت میں ایک طلاق دے پھر حیض گزرنے کے بعد ایام پاکیزگی میں دوسری طلاق دے اور پھر حیض گزرنے کے بعد تیسری حالت پاکیزگی میں تیسری طلاق دے۔ پہلی اور دوسری طلاق کے بعد شوہر رجوع کر سکتا تھا لیکن تین طلاق کے بعد طلاق مغلظہ بن چکی لہذا نہ تو رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی نیا نکاح ممکن ہے اس لئے دوبارہ ازدواجی رشتہ قائم کرنے کے لئے حلالہ ضروری ہے۔ اس طریقے سے طلاق دینے میں یہ فائدہ ہے کہ شوہر دوسری یا تیسری طلاق دینے سے قبل اچھی طرح سوچ سکتا ہے اور اس دوران اصلاح احوال کے لئے مناسب کوشش بھی کی جاسکتی ہے اور شوہر کے پاس رجوع کی گنجائش بھی ہے جبکہ ایک ساتھ تین طلاقیں دینے سے رجوع کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔اور اس کے پاس اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔

3:طلاق بدعت : وہ طلاق جو سنت طریقے کے خلاف دی جائے طلاق بدعت کہلاتی ہے۔

اس کی چار صورتیں ہیں:

اول: بیک وقت تین طلاق دینا۔

دوم: جس طہر یعنی پاکیزگی میں جماع کیا اس میں طلاق دینا ۔

سوم: ایک طہر میں دو یا تین طلاقیں دینا۔

چہارم: حیض کی حالت میں طلاق دینا۔ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے۔ اگر کسی نے حیض کے ایام میں ایک یا دو طلاقیں دی ہوں تو رجوع کرنا ضروری ہے اگر رجوع نہ  کیا  تو گناہگار ہوگا ۔ جب عورت حیض سے پاک ہو جائے اور پھر دوبارہ ایک حیض گزرنے پر عورت پاک ہو تو اب اگر طلاق دینا چاہے تو طلاق دیدے۔

بیک وقت تین طلاقیں دینا بھی طلاق بدعت اور گناہ ہے مگر تینوں طلاقیں اس وقت نافذ ہو جائیں گی۔ اس صورت میں حلالہ کے بغیر ان کے ملاپ کی کوئی صورت نہیں۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

”پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں، اگر سمجھتے ہوں کہ اللّٰہ کی حدیں نباہیں گے اور یہ اللّٰہ کی حدیں ہیں جنہیں (وہ) بیان کرتا ہے دانشمندوں کیلئے۔“

معلوم ہوا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے خواہ بیک وقت دے خواہ علیحدہ علیحدہ تو عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہو جاتی ہے۔ اسے دوبارہ بیوی بنانے کے لئے حلالہ ضروری ہوگا۔

حلالہ کا طریقہ: حلالہ کا طریقہ یہ ہے کہ عدت کے بعد وہ عورت کسی دوسرے سے نکاح کرے اور وہ حقوق زوجیت پورے کریں، پھر اگر وہ شخص اپنی مرضی سے طلاق دیدے تو عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ طلاق غصہ میں دی جائے یا نشہ میں واقع ہو جاتی ہے یوں ہی حمل کی حالت میں بھی عورت کو طلاق ہو جاتی ہے۔ اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی مگر لوگوں سے کہا کہ میں نے طلاق دیدی تو طلاق ہو جائے گئی اسی طرح اگر ایک طلاق دی اور لوگوں سے کہا کہ تین طلاقیں دی ہیں تو تین نافذ ہوں گی اگر چہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔

Share:
keyboard_arrow_up