Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 50 of 90

اگر شوہر نے تین طلاقیں دیں اور بعد میں مکر گیا، اور عورت کے پاس گواہ نہیں ہے تو عورت کو چاہئے کہ جس طرح ممکن ہو اس سے پیچھا چھڑائے۔ مہر معاف کرکے یا اپنا مال اس کو دے کر اس سے علیحدہ ہو جائے۔ اگر وہ نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے پھر بھی اس فکر میں رہے کہ اس سے رہائی ملے،پوری کوشش کرے کہ وہ صحبت نہ کرنے پائے۔ عورت جب ان باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اور شوہر بہر حال گناہگار ہے۔

تین طلاقوں کا مسئلہ

سوال: غیر مقلد کہتے ہیں کہ عہد رسالت میں ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی تین طلاقوں کو تین قرار دینے کی بدعت بعد میں شروع ہوئی۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب: صحیح احادیث مبارکہ، اجماع صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین کے اقوال سے ثابت ہے کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی تھیں۔ بدعت کے متعلق ہم بعد میں تفصیل سے گفتگو کریں گے فی الوقت یہ جان لیجئے کہ عہد رسالت و دور صحابہ میں کیا معمول تھا اور اس معمول کے خلاف بدعت پیدا کرنے والے بدعتی کون ہیں؟

محمود بن لبید رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم کو یہ خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں۔ آقا و مولیٰ یہ سن کر غصہ میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا:” لوگ کتاب اللّٰہ سے کھیل کرتے ہیں حالانکہ میں تمہارے درمیان ابھی موجود ہوں۔

اگر عہد نبوی میں تین طلاقیں ایک طلاق مانی جاتی تھیں تو آقا و مولیٰ کے ناراض ہونے کا کیا سبب تھا ؟

معلوم ہوا کہ تین طلاق ایک ساتھ دینا گناہ اور حضور کو سخت ناپسند ہے۔ آپ یقیناً اسی لئے ناراض ہوئے کہ اس شخص نے سنت طریقے کے خلاف طلاق دے کر گناہ کا ارتکاب کیا۔

ایک اور حدیث پاک ملاحظہ کیجئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم کے زمانہ اقدس میں ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی نافذ ہوتی تھیں،

حضرت سہل بن سعید سے مروی ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نےحضور کے سامنے تین طلاقیں دیں تو آقائے دو جہاں نے ان تین طلاقوں کو نافذ کردیا۔

اسی طرح سنن دار قطنی میں ہےکہ حفص بن مغیرہ نےاپنی بیوی کو ایک کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دیں تو نبی کریم نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کردیا۔

اسی میں حضرت امام حسن رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد موجود ہے کہ میں نے رسول معظم کو یہ فرماتے سنا کہ” جو اپنی بیوی کو تین طلاق دے، خواہ ہر طہر میں الگ الگ یا ہر ما ہ کے شروع میں ایک ایک یا ایک ساتھ تین طلاق دے ، اس کی بیوی حلال نہیں ہو گی جب تک کسی دوسرے سے نکاح نہ کرے ۔“

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے ایک شخص نے عرض کیا، میں نے اپنی بیوی کو سو (۱۰۰) طلاقیں دے دیں۔ آپ نے فرمایا: ”اسے تین طلاقیں ہوگئیں اور ستانوے (۹۷) طلاقوں سے تو نے اللّٰہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑایا۔

حضرت علی کرم اللّٰہ وجہہ کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ ”جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے تو وہ اس کیلئے حلالہ کے بغیر حلال نہ ہوگی۔“

صحیح مسلم کتاب الطلاق میں ہے کہ: حضرت عمر کے زمانے میں یہ قانون بنا دیا گیا کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی۔ اس کی شرح میں امام نووی نے فرمایا صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ بیک وقت تین طلاقیں تین ہی ہوں گی۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں جو تین طلاق ایک ساتھ دیتا آپ اسے دُرّے مارتے تھے۔ اس مسئلہ کا پس منظر یہ ہے کہ دور فاروقی سے قبل لوگ ایک بار طلاق دیتے اور دوبار اس کی تاکید کرتے مثلاً تجھے طلاق ہے ،طلاق طلاق ۔ پہلی بار طلاق کی نیت سے طلاق کہتے اور دو بار تاکید کے طور پر اسے دہراتے۔ بعد میں تین طلاق کی نیت سے تین بار طلاق کہنے لگے تو سیدنا عمر رضی اللّٰہ عنہ نے ان کی نیتوں کے مطابق شرعی حکم نافذ فرما دیا۔

امام نووی فرماتے ہیں: ” بیک وقت تین طلاقوں کے تین ہونے کے بارے میں امام ابو حنیفہ ،امام شافعی، امام مالک ،امام احمد اور جمہور علماء سلف و خلف کا اتفاق ہے۔“

Share:
keyboard_arrow_up