Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 51 of 90

غیر مقلد حضرات اپنے مؤقف کی تائید میں جو حدیث مسلم شریف سے پیش کرتے ہیں، محدثین کے نزدیک وہ شاذ معلل اور غیر صحیح ہے۔

اس کا ایک سبب یہ ہے کہ اس کے راوی طاؤس قابل اعتماد نہیں، اور دوسرا بڑا سبب یہ ہے کہ اس کے راوی حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جو کہ خود تین طلاقوں کو تین قرار دیتے ہیں

جیسا کہ موطا امام مالک کی حدیث اوپر بیان ہوئی۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ حضور سے ایک بات روایت کریں اور پھر خود اس کے خلاف فتوی دیں۔

دوسری روایت جو یہ حضرات مسند احمد سے بطورِ دلیل لاتے ہیں وہ منکر اور ضعیف ہے۔ اسماء الرجال کی کتب میں اس کے ایک راوی کو ضعیف اور دوسرے کو جھوٹا بتایا گیا ہے۔ علامہ جصاص نے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے۔

ان دلائل سے ثابت ہو گیا کہ صحابہ و تابعین کرام نیز حنفیk، شافعی، مالکی اور حنبلی تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ بیک وقت دی گئی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں۔

ظہار کے مسائل سوال:

ظہار سے کیا مراد ہے؟ کسی نے اپنی بیوی سے کہا تو ”مجھ پر میری ماں کی مثل ہے“ کیا یہ ظہار ہے؟ ظہار کا کفارہ کیا ہے؟

جواب: ظہارk کے معنی یہ ہیں کہ اپنی بیوی یا اس کے ایسے جزو کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہے ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس مرد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو یا اس کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس عضو کی طرف اس مرد کو دیکھنا حرام ہے۔

جیسے یہ کہنا:” تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے“ یا ”تیری گردن “یا ”تیرا سر میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے“۔عورت کے سر یا چہرہ یا گردن یا شرمگاہ کو محارم سے تشبیہ دی تو ظہار ہے ۔

اگر عورت کی پیٹھ یا پیٹ یا ہاتھ یا پاؤں یا ران کو تشبیہ دی تو کچھ نہیں۔ یوں ہی اگر محارم کے ایسے عضو سے تشبیہ دی جس کی طرف نظر کرنا حرام نہ ہو مثلاً سر یا چہرہ یا ہاتھ یا پاؤں یا بال تو ظہار نہیں اور اگر گھٹنے سے تشبیہ دی تو ظہار ہے۔ محارم کی پیٹھ یا پیٹ یا ران سے تشبیہ دی یا یہ کہا کہ میں نے تجھ سے ظہار کیا تو نیت کچھ بھی نہ ہو یا طلاق کی نیت ہو یا تعظیم و تکریم کی نیت ہو ہر حالت میں ظہار ہی ہے۔

اگر بیوی کو بہن، بیٹی یا ماں کہا تو ظہار نہ ہوا مگر ایسا کہنا مکروہ ہے۔ اگر بیوی سے کہا ”تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے“ تو نیت دریافت کی جائے گی؛

(1) اگر اس کے اعزاز و تکریم کے لئے کہا تو کچھ نہیں۔

(2) اگر طلاق کی نیت ہے تو طلاق بائن واقع ہوگئی ۔

(3)اگر ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور کچھ نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔

ظہار کا حکم یہ ہے کہ مرد جب تک کفارہ نہ دے اس وقت تک وہ عورت اس پر حرام رہے گی۔ اس کا کفارہ یہ ہے کہ مرد لگا تار دو ماہ کے روزے رکھے، اگر اس کی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

رجعت کا مسنون طریقہ

سوال : کسی نے اپنی عورت کو طلاق رجعی دی، اب وہ رجوع کرنا چاہتا ہے، رجعت کا مسنون طریقہ بیان فرما دیجیے۔

جواب : رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سےہی رجعت کی جائے اور اس پر دو عادل لوگوں کو گواہ بنایا جائے، نیز عورت کو بھی اس کی خبر دی جائے تاکہ وہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرے۔ اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کیے یا عورت کو خبر نہ کی تو رجعت ہو جائے گی مگر مکروہ اورخلاف سنت ہے۔ اور اگر کسی فعل سے رجعت کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے اس لیے پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ ہی کہنے چاہئیں ۔

رجعت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے تجھ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس اپنے نکاح میں لیا یا میں نے تجھے روک لیا یا میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ ان الفاظ سے نیت کے بغیر بھی رجعت ہو جاتی ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up