Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 52 of 90

اگر یہ کہا کہ تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی پہلے تھی یا کہا تو میری عورت ہے، اگر رجعت کی نیت تھی تو رجعت ہو گئی ورنہ نہیں۔ رجعت میں عورت کی رضامندی ضروری نہیں، اگر عورت انکار بھی کرے رجعت ہو جائے گی۔

خلع کے مسائل

سوال : خلع کسے کہتے ہیں ؟ اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو کیا شوہر طلاق کے عوض اس سے مہر کے علاوہ زائد مال کا مطالبہ کر سکتا ہے؟

جواب : اسلام نے طلاق دینے کا اختیار مرد کو عطا کیا ہے اور ساتھ ہی عورت کو یہ حق دیا ہے کہ اگر شوہر اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا اور اس کے حقوق پامال کرتا ہے تو اس صورت میں وہ طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اسے خلع کہتے ہیں۔

خلع کا طریقہ:

اس کا طریقہ یہ ہے کہ عورت شوہر سے یوں کہے کہ ”میں تمہیں اتنا مال دیتی ہوں “یا ”جو مہر کی رقم تمہارے ذمہ ہے وہ رکھ لو اور مجھے طلاق دے دو۔“ اگر شوہر اسے مان لے تو ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔ اگر مرد کی طرف سے زیادتی کے باعث عورت طلاق لینے پر مجبور ہو تو شوہر کو چاہیے کہ طلاق کے بدلے میں اس سے کوئی معاوضہ نہ لے۔ اور اگر زیادتی عورت کی طرف سے ہو تو شوہر کو صرف مہر کی رقم پر خلع کرنی چاہیے اس سے زیادہ مال نہیں لینا چاہیے۔

حضرت ثابت بن قیس رضی اللّٰہ عنہ کی زوجہ نے ان سے خلع کا مطالبہ کیا، ان کا مہر ایک باغ تھا۔ آقا و مولیٰ نے ان سے دریافت فرمایا، کیا تم یہ باغ واپس کرتی ہو ؟ انہوں نے عرض کی، یہ باغ بھی اور اس کے ساتھ مزید مال بھی ۔ آپ  نے فرمایا: ”صرف باغ، اس سے زیادہ نہیں ۔“

گویا جو باغ مہر میں دیا گیا تھا اس پر نبی کریم نے خلع کا فیصلہ فرمایا۔

عدت کے احکام ومسائل:

سوال : عدت کسے کہتے ہیں؟ طلاق اور وفات کی عدت کے متعلق ضروری مسائل ارشاد فرمائیے۔

جواب : عورت طلاق ہو جانے یا شوہر فوت ہو جانے کی صورت میں ایک مخصوص مدت تک دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی، اسے ”عدت“ کہتے ہیں۔

طلاق کی عدت کی تین صورتیں ہیں:

اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ جب بچہ پیدا ہوگا عدت ختم ہو جائے گی۔

اگر عورت حاملہ نہیں اور اسے حیض آتا ہے تو اس کی مدت تین حیض ہے۔ یعنی جس پاکیزگی کے دنوں میں اسے طلاق ہو اس کے بعد جب تین حیض گزرجائیں تو تیسرے حیض کے ختم ہونے پر اس کی عدت ختم ہو جائے گی۔

اگر عورت کو کسی سبب حیض نہیں آتا اور وہ حاملہ بھی نہیں تو ایسی عورت کی عدت تین ماہ ہے۔ جب کسی عورت کا شوہر وفات پا جائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ عدت کے دوران عورت نہ تو کسی سے نکاح کر سکتی ہے اور نہ ہی اسے نکاح کا پیغام دیا جا سکتا ہے۔ عورت کو چاہیے کہ وہ عدت اسی مکان میں گزارے جہاں طلاق دی گئی یا شوہر کا انتقال ہوا ۔ اس دوران مطلقہ عورت کے اخراجات اس کے شوہر کے ذمہ ہوں گے ۔

اگر بیوہ عورت رزق کے حصول کیلئے باہر نکلنے پر مجبور ہو تو اسے اجازت ہے کہ دن میں اور رات کے کچھ حصے میں باہر جائے اور رات کا اکثر حصہ اپنے مکان میں گزارے مگر حاجت سے زیادہ باہر ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔

اگر اس کے پاس بقدر کفایت خرچ موجود ہے تو اسے گھر سے نکلنا مطلقا منع ہے۔ یوں ہی اگر کوئی سودا لانے والا نہ ہو تو اس کے لیے بھی جا سکتی ہے۔ طلاق بائن یا تین طلاق کی عدت میں ضروری ہے کہ شوہر اور اس کی بیوی میں پردہ ہو یعنی ان کے درمیان کسی چیز سے آڑ کر دی جائے کہ شوہر ایک طرف رہے اور عورت دوسری طرف۔ عورت کا اس کے سامنے محض اپنا بدن چھپانا کافی نہیں کیونکہ عورت اب اجنبیہ ہے اور اس سے خلوت جائز نہیں بلکہ یہاں فتنہ کا زیادہ اندیشہ ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up