اگر مکان اتنا تنگ ہو کہ دونوں الگ الگ رہ سکیں تو شوہر اتنے دنوں تک خود مکان چھوڑ دے، عورت کو دوسری جگہ بھیجنا جائز نہیں۔ اگر شوہر فاسق ہو تو حکماً اسے مکان سے علیحدہ کر دیا جائے اور اگر وہ نہ نکلے تو وہاں کوئی دانشمند عورت بھیج دی جائے جو فتنہ کو روک سکے۔
ان مسائل سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کس قدر حقوق دیے ہیں، یہاں تک کہ طلاق کے بعد عدت کے دوران شوہر نہ صرف عورت کو رہائش دینے کا پابند ہے بلکہ اس کے کھانے پینے وغیرہ کے ضروری اخراجات بھی شوہر ہی کے ذمے ہیں۔ دنیا کے کسی اور مذہب میں عورتوں کے حقوق کے متعلق ایسی مثال نہیں ملتی۔
جس عورت کا شوہر فوت ہو گیا یا جس کو طلاق بائن ہو گئی اسے عدت کے دوران زیب و زینت اور بناؤ سنگھار نہیں کرنا چاہیے البتہ غسل کرنے یا صاف لباس پہننے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ بناؤ سنگھار ترک کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قسم کا زیور، ہر رنگ کے ریشمی کپڑے، شوخ رنگ کا لباس، خوشبو ، مہندی، سرمہ، تیل (اگر چہ خوشبو دا رنہ ہو ) اور کنگھا استعمال کرنا منع ہے۔ عذر کی وجہ سے ان چیزوں کا بقدرِ ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ زینت مقصود نہ ہو۔
جس عورت کو طلاق رجعی دی گئی اسے نہ تو شوہر سے پردے کی ضرورت ہے اور نہ ہی بناؤ سنگھار کرنے میں کوئی مضائقہ ہے بلکہ بہتر ہے کیونکہ ممکن ہے اس طرح اس کا شوہر اس کی طرف مائل ہو اور رجوع کر لے۔
باب ہفتم
میت کے مسائل عورتوں کی مزارات پر حاضری
سوال :عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا اور اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری دینا شرعاً کیسا ہے؟ دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیے۔
جواب : اگر چہ بعض علماء نے عورتوں کو چند شرائط کے ساتھ قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے لیکن اس بارے میں ہمارا مسلک وہی ہے جو امام اہلسنت مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللّٰہ علیہ کا ہے۔ آپ نے اس موضوع پر ایک مدلل تحقیقی رسالہ ”جمل النور فی نہی النساء عن زيارة القبور“ تحریر فرمایا۔
اس رسالے سے چند نکات ملاحظہ فرمائیں۔
اعلیٰ حضرت ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”عورتوں کےحالات کو دیکھتے ہوئے سوائے روضَۂ انور کی حاضری کے جو کہ واجب یا واجب کے قریب ہے، میں اولیاء کے مزارات یا دیگر قبور کی زیارت کو عورتوں کا جانا صاحب ”غنیۃ “علامہ محقق ابراہیم حلبی کی تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے ہرگز پسند نہیں کرتا، خصوصاً اس طوفانِ بے تمیزی رقص و مزامیر وسرور میں۔ جو آج کل جاہلوں نے اعراس طیبہ میں بر پا کر رکھا ہے، میں تو اس میں عام مردوں کی بھی شرکت پسند نہیں کرتا تو پھر ان کی شرکت کیسے جائز ہو جن کے سامنے حضرت انجشہ رضی اللّٰہ عنہ کی خوش الحان حدی خوانی پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، اے انجشہ ! ان نازک شیشیوں کو نہ توڑو۔
نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو عیدین کی سخت تاکید فرمائی۔
دوسری حدیث پاک میں ہے،
”اللّٰہ کی بندیوں کو اللّٰہ کی مسجدوں میں آنے سے نہ روکو۔“
ان واضح احکامات کے باوجود حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے منع فرمایا۔ وہ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس شکایت لے کر گئیں تو ام المومنین نے فرمایا: ” اگر نبی کریم ﷺ عورتوں کے یہ حالات ملاحظہ فرماتے تو ضرور انہیں مسجد سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کر دی گئیں۔“

