Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 54 of 90

”عمدة القاری شرح بخاری“ جلد سوم میں علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں:

حضرت ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے: عورت سرتا پا چھپانے کی چیز ہے، وہ اپنے گھر کی تہہ میں سب سے زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کے قریب ہوتی ہے اور جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے دیکھتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار کر عورتوں کو مسجد سے نکالتے۔ امام ابراہیم نخعی تابعی جو امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ( کے استاد کے استاد ہیں ) اپنی عورتوں کو جمعہ و جماعت میں جانے سے منع فرماتے تھے۔

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

”جب ان خیر کے زمانوں اور ان فیوض و برکات کے وقتوں میں عورتیں مسجدوں میں جانے اور جماعت میں شریک ہونے سے منع کر دی گئیں حالانکہ دین اسلام میں دونوں کی شدید تاکید ہے تو کیا اس برائیوں کے زمانے میں فیوض و برکات کے حصول کے حیلے سے عورتوں کو قبروں کی زیارت کو جانے کی اجازت دی جائے گی جس کی شریعت میں کوئی تاکید نہیں ؟ اور خصوصاً ان میلوں ٹھیلوں میں جو جہلاء نے مزارات کرام پر نکال رکھے ہیں، یہ فعل کس قدر شریعت مطہرہ کے خلاف ہے؟؟؟

”عمدۃ القاری شرح بخاری“ جلد چہارم میں امام ابو عمر کا قول ہے کہ ”

اکثر علماء نے تو نمازوں کے لیے عورتوں کا نکلنا مکروہ کہا ہے تو قبرستان جانے کا کیا حکم ہوگا ؟ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ عورتوں سے فرض نماز جمعہ کا ساقط ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں اس کے علاوہ یعنی زیارت قبور سے روکا جائے گا۔“

”عمدہ القاری“ ہی میں ہے کہ ”ہمارے لوگوں نے کراہت کی دلیل یہ دی ہے کہ عورتوں کے نکلنے میں فتنہ کا اندیشہ ہے اور یہ نکلنا ایک حرام کا سبب ہے اور جو کام حرام تک پہنچانے والا ہو وہ حرام ہی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر مکروہ سے حرام مراد ہے کیونکہ اس زمانے میں فتنہ وفساد اور برائی عام ہے۔

”غنیۃ“ نے نقل کیا ہے کہ” امام قاضی سے فتویٰ پوچھا گیا کہ عورتوں کو قبرستان جانا جائز ہے یا نہیں؟

فرمایا، ایسی جگہ جائز ، ناجائز نہیں پوچھو بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کتنی لعنت ہوتی ہے؛ وہ جب گھر سے نکلنے کا ارادہ کرتی ہے اللّٰہ تعالیٰ اور فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، وہ جب باہر نکلتی ہے اسے ہر طرف سے شیطان گھیر لیتے ہیں، جب قبر تک پہنچتی ہے میت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، وہ جب واپس آتی ہے اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت میں ہوتی ہے ۔

اس پرفتن دور میں خواتین کو چاہیے کہ وہ بزرگان دین کی سیرت اور ان کی تعلیمات پر مبنی کتب گھر میں رکھیں، خود بھی پڑھیں اور بچوں کوبھی پڑھائیں اور جب کسی بزرگ کے عرس کا موقع آئے تو گھر ہی میں ان کے ایصالِ ثواب کے لیے محفل منعقد کر لیں جس میں اگر ہو سکے تو ان کی سیرت و تعلیمات بیان کریں ور نہ کھانے پینے کی کسی چیز پر فاتحہ پڑھ کر انہیں ایصال ثواب کریں۔ اس طرح وہ اپنے عزیز واقارب میں سے کسی کے لیے بھی تلاوت قرآن اور ذکر واذکار کے بعد فاتحہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کر سکتی ہیں۔

جہنم میں عورتوں کی کثرت کیوں؟

سوال : کہا جاتا ہے کہ اہلِ جہنم میں زیادہ تر عورتیں ہوں گی۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟

جواب : بخاری ومسلم میں ہے کہ آقا ومولیٰ کا عورتوں کے پاس سے گذر ہوا تو آپ ﷺ    نے فرمایا، اے عورتو! تم صدقہ کیا کرو، میں نے جہنم میں اکثر عورتوں کو دیکھا ہے۔ عرض کی گئی ، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ  نے فرمایا ”تم لعنت زیادہ کرتی ہو، اپنے شوہر کی نعمتوں کی ناشکری کرتی ہو، میں نے تم سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا جو خود تو عقل و دین میں ناقص ہو لیکن بڑے بڑے عقلمندوں کی عقل کو ناکارہ کر دے۔ عرض کی گئی، ہمارے عقل و دین میں کیا کمی ہے؟ فرمایا، کیا عورتوں کی گواہی مردوں کی گواہی کے نصف کے برابر نہیں ؟ عرض کی گئی، ہاں۔ ارشاد ہوا، یہ ان کی عقل کی کمی ہے۔ پھر فرمایا، عورت کو جب حیض آئے تو وہ نماز نہیں پڑھتی اور روزہ نہیں رکھتی، کیا ایسا نہیں ہے؟ عرض کی گئی، ہاں ایسا ہی ہے۔ فرمایا، یہ ان کے دین کی کمی ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up