آقا و مولیٰ ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے:
”میں نے جہنم میں عورتوں کو زیادہ دیکھا ہے۔ صحابَۂ کرام نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺاس کی کیا وجہ ہے؟
فرمایا: ان کی ناشکری کے باعث۔ عرض کی گئی، کیا وہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناشکری کرتی ہیں؟
آقا کریم ﷺ نے فرمایا:
وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور اس کے احسانات کا انکار کرتی ہیں؟ اگر تم عورت پر طویل عرصہ احسان کرتے رہو پھر اسے تمہاری طرف سے معمولی فرق نظر آئے تو کہتی ہے: میں نے تو تم سے آج تک کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جہنم میں زیادہ تر عورتیں ہوں گی اور ان کے جہنم میں جانے کی دو بڑی وجوہات حضور ﷺ نے بیان فرما ئیں ۔
اول: یہ کہ وہ کثرت سے لعن طعن کرتی ہیں اور،
دوم یہ کہ: وہ اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ عورتوں کو ان برائیوں سے بچنے کے علاوہ کثرت سے صدقہ کرنا چاہیے۔
کیونکہ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے:
”صدقہ اللّٰہ تعالیٰ کے غضب کو بجھاتا ہے اور بری موت کو دور کرتا ہے۔“
ایک اور حدیث پاک میں ہے:
”آگ سے بچو اگر چہ کھجور کا کچھ حصہ ہی صدقہ دو۔“
یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اتنا صدقہ دے سکتی ہے جتنا دینے سے شوہر ناراض نہیں ہوتا۔ اس صدقہ کا ثواب دونوں کو برابر ہوگا اور ایک کے ثواب سے دوسرے کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
اول الذکر حدیث مبارکہ میں ایک اور حقیقت بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ عورتیں خود تو عقل و دین میں ناقص ہیں لیکن بڑے بڑے عقلمندوں کی عقل پر پردے ڈال دیتی ہیں۔ اس کی کئی مثالیں معاشرے میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
1۔ عورتوں کا بن سنور کر بے پردہ باہر نکلنا،
2۔ بازاروں میں نامحرموں کے درمیان گھومنا پھرنا،
3۔ مردوں کی مشابہت اختیار کرنا وغیرہ۔
ایسے سب کام اکثر عورت اس وقت کرتی ہے جب وہ اپنے گھر کے مردوں کی عقل کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔
پردے کے متعلق ضروری مسائل و احکام پچھلے صفحات میں بیان کیے جاچکے ہیں۔ آقا و مولیٰ ﷺ نے عورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
یہ مشابہت لباس میں ہو یا زیب وزینت میں یا عادات و اطوار میں، کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔
سید عالم ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں کا سا لباس پہنتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردانہ لباس پہنتی ہیں۔
ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا،
”اللّٰہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو اپنے جسم پر رنگ بھرواتی ہیں اور جو رنگ بھرتی ہیں، اور جو چہرے سے بال نوچتی ہیں اور جو بال نو چواتی ہیں، اور ان پر بھی جو اپنے دانتوں کے درمیان حسن کے لیے کشادگی بناتی ہیں کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی تخلیق کو بدلنے والی ہیں۔“
اس حدیث پاک میں بال نوچنے کا ذکر ابروؤں یا چہرے سے متعلق ہے البتہ داڑھی یا مونچھوں کی جگہ کے بال عورت کو نوچنا جائز ہے۔
ایک اور حرام فعل جس میں عورتیں کثرت سے مبتلا ہیں وہ میت پر نوحہ و بَین کرنا ہے۔
صدر الشریعہ لکھتے ہیں:
”نوحہ یعنی میت کے اوصاف مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رونا (اور چلانا) جسے بین کہتے ہیں، بالاجماع حرام ہے۔ گریبان پھاڑنا، منہ نوچنا، بال کھولنا، سر پر خاک ڈالنا، سینہ پیٹنا، ران پر ہاتھ مارنا یہ سب جاہلیت کے کام ہیں اور حرام ہیں۔ آواز سے رونا منع ہے اور آواز بلند نہ ہو تو اس کی ممانعت نہیں۔

