آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:
”جو اپنا منہ پیٹے، گریبان پھاڑے اور جاہلیت کا پکارنا پکارے یعنی نوحہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔
“نور مجسم ﷺکا ارشاد ہے:
”جو سر منڈائے اور چیخے چلائے یعنی نوحہ و بین کرے اور کپڑے پھاڑے، میں اس سے بیزار ہوں۔“
رسول معظم ﷺ نے نوحہ کرنے اور سننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا،
” آنکھ کے آنسو اور دل کے غم کے سبب اللّٰہ تعالٰی عذاب نہیں فرماتا، پھر زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا، لیکن اس کے سبب عذاب یا رحم فرماتا ہے اور گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت پر عذاب ہوتا ہے۔
یعنی جبکہ اس نے رونے کی وصیت کی ہو یا وہاں رونے کا رواج ہو اور اس نے منع نہ کیا ہو۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ یا یہ مراد ہے کہ ان کے رونے سے اسے تکلیف ہوتی ہے ۔
دوسری حدیث میں آیا ،
”اے اللّٰہ کے بندو! اپنے مردے کو تکلیف نہ دو، جب تم رونے لگتے ہو وہ بھی روتا ہے۔“
رحمت عالم ﷺ نے صدمہ کے وقت صبر کرنے کی بے حد تلقین فرمائی ہے۔
حدیث پاک میں ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”اے آدم کی اولاد ! اگر تو شروع صدمہ کے وقت صبر کرے اور ثواب کا طالب ہو تو میں تیرے لیے جنت کے سوا کسی ثواب پر راضی نہیں۔
ایک اور حدیث شریف میں عورتوں کو صبر کے بدلے میں جنت کی بشارت دی گئی ۔
آقا و مولیٰ ﷺنے فرمایا:
تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ اسے دوزخ سے بچالیں گے۔ ایک عورت بولی، جس کے دو بچے فوت ہو جائیں؟ فرمایا، دو بچے بھی آگ سے بچا لیں گے۔
دوسری روایت میں ہے:
جس کا ایک بچہ فوت ہو جائے وہ بھی اپنے ماں باپ کو آگ سے بچا لے گا۔
مسند احمد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ: کچا بچہ بھی اپنی ماں کو جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ وہ صبر کرے۔
میت کے غسل اور کفن کے مسائل
سوال: جب کسی مسلمان کے انتقال کا وقت قریب آئے تو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے سے متعلق ضروری مسائل بھی بیان فرمائیے۔
جواب : جب کسی کی موت کا وقت قریب آئے اور موت کی علامات ظاہر ہونے لگیں (پاؤں ڈھیلے پڑ جائیں اور کھڑے نہ ہوسکیں اور ناک ٹیڑھی ہوجائے وغیرہ) تو سنت یہ ہے کہ اسے دائیں کروٹ پر لٹا کر منہ قبلہ کو کردیں یا سیدھا لٹا کر پاؤں قبلہ کی طرف کر دیں اور سر ذرا سا اونچا کر دیں اس طرح بھی اس کا منہ قبلہ کی سمت ہو جائے گا اور اگر قبلہ کی سمت منہ کرنا دشوار ہو تو وہ جس حالت پر ہے رہنے دیں۔ نزع کی حالت میں اسے کلمہ کی تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھیں مگر اسے پڑھنے کے لیے ہرگز نہ کہیں کیونکہ ہو سکتا ہے وہ شدید تکلیف کے باعث انکار کر دے۔ اس کے پاس سورہ یٰس اور سورۃ الرعد کی تلاوت کی جائے اس سے روح نکلنے میں آسانی ہوتی ہے نیز وہاں اگر بتیاں سلگا دیں تا کہ خوشبو رہے، یہ مستحب ہے۔ اس کمرے میں تصویر یا کوئی ناپاک شخص ہو تو اسے ہٹا دیں۔
کیونکہ آقا و مولیٰ ﷺکا فرمان ہے:
”جس گھر میں کتا، تصویر یا کوئی ناپاک شخص ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
“حیض اور نفاس والی عورتیں وہاں آ سکتی ہیں لیکن اگر حیض و نفاس ختم ہوجانے کے بعد انہوں نے غسل نہ کیا ہوتو وہاں نہ آئیں۔

