Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 57 of 90

جب روح نکل جائے تو میت کی آنکھیں بند کردیں اور یہ دعا پڑھیں:

”بسْمِ اللهِ وَعَلٰى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ اللّٰهُمَّ يَسّرْ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَسَهِّلْ عَلَيْهِ مَا بَعْدَهُ وَاسْعِدْهُ بِلِقَائِكَ وَاجْعَلُ مَا خَرَجَ إِلَيْهِ خَيْراً مِّمَّا خَرَجَ عَنْهُ

”اللّٰہ تعالیٰ کے نام اور رسول اللّٰہ کی ملت پر اس کی آنکھیں بند کرتا ہوں، اے اللّٰہ تعالیٰ! اس پر اس کے معاملے کو آسان فرما دے اور بعد والے مراحل کو بھی آسان فرما دے۔ اسے اپنی ملاقات سے خوش قسمت بنا دے اور جدھر یہ جا رہا ہے اُسے یعنی آخرت کو اس جگہ یعنی دنیا سے بہتر بنادے جہاں سے یہ نکلا ہے“۔

میت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد اس کے بازو اور ٹانگیں سیدھی کر دیں اور کپڑے کی چوڑی پٹی ٹھوڑی کے نیچے سے لے جا کر سر کے اوپر گرہ باندھ دیں تاکہ میت کا منہ کھلا نہ رہے۔ پیٹ پر لوہا یا کوئی بھاری چیز رکھ دیں تاکہ پیٹ پھول نہ جائے مگر ضرورت سے زیادہ وزنی نہ ہو کہ میت کیلئے باعثِ تکلیف ہے۔

میت کے ذمہ قرض ہو تو اسے جلد از جلد ادا کر دیا جائے نیز غسل و کفن میں بھی جلدی کرنی چاہیے۔ ان دونوں باتوں کی حدیث شریف میں بہت تاکید آئی ہے۔ میت کے پاس تلاوت اور ذکر و اذکار کرنا جائز ہے البتہ میت کے پاس بلند آواز سے رونا اور بَین کرنا سخت ناجائز ہے۔ اگر غم کی شدت کے باعث آنسو بہائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ زبان پر کوئی شکایت یا بے صبری کا جملہ نہ آئے۔

میت کو وہ لوگ غسل دیں جن کا میت سے دلی تعلق ہو تا کہ اگر کوئی ناپسندیدہ بات دیکھیں تو کسی کو نہ بتا ئیں۔ میت کو جس چارپائی یا تختہ پر غسل دینا ہو ا سے خوشبو کی دھونی دیں یا اس کے اردگرد اگر بتیاں سلگا دیں ، اور جس پانی سے غسل دینا ہو اس میں بیری کے پتے ڈال کر پانی کو جوش دیں ، اگر پتے نہ ملیں تو خالص پانی نیم گرم لے لیں۔

میت مرد ہو تو مرد غسل دے اور عورت ہو تو عورت نہلائے۔ عورت مرجائے تو اس کا شوہر نہ اسے نہلا سکتا ہے اور نہ چھو سکتا ہے البتہ دیکھنے کی ممانعت نہیں۔ شوہر اس کے جنازے کو کندھا بھی دے سکتا ہے اور اسے قبر میں بھی اتار سکتا ہے۔

میت کو کسی با پردہ جگہ چار پائی یا تختہ پر سیدھا لٹا دیں پھر ناف سے گھٹنوں تک کسی کپڑے سے پردہ کر کے اس کا لباس اتار دیں۔ میت کو غسل دینے والی اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ لے پھر میت کو پہلے استنجا کرائے پھر وضو کرائے؛ اس وضو میں نہ تو کلی کرائے اور نہ ہی ناک میں پانی ڈالے البتہ کوئی کپڑا یا روئی بھگو کرمیت کے دانتوں، مسوڑھوں اور ہونٹوں پر اور ناک میں بھی پھیر دے۔ پھر صابن سے سر کے بال اچھی طرح دھو کر پانی بہائے ۔ اب میت کو بائیں کروٹ لٹا کر سر سے پاؤں تک پانی بہائیں کہ نیچے تک پہنچ جائے پھر دائیں کروٹ لٹا کر بائیں طرف کو اچھی طرح دھوئیں اور پانی بہا دیں۔

پھر میت کو سہارا دیکر بٹھائیں اور نرمی کے ساتھ پیٹ پر نیچے کی طرف ہاتھ پھیریں اگر نجاست نکلے تو دھو دیں البتہ دوبارہ وضو و غسل نہ کرائیں۔ آخر میں سر سے پاؤں تک کافور کا پانی بہائیں اور کسی تولیے یا پاک کپڑے سے جسم کو نرمی سے خشک کریں۔

مرد کے لیے سنت کفن:

مرد کے لیے سنت کفن تین کپڑے ہیں۔

(1)۔ ازار یعنی تہبند،

(2)۔ قمیص اور

(3)۔ لفافہ ۔

عورت کے لیے سنت کفن:

عورت کے لیے سنت کفن پانچ کپڑے ہیں۔

(1)۔ مذکورہ تین کپڑوں کے علاوہ

(2)۔ اوڑھنی اور

(3)۔ سینہ بند بھی ہیں۔

ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

ازار وہ چادر ہے جو میت کے سر سے لے کر پاؤں تک لمبی ہو اور اتنی چوڑی ہو کہ دونوں طرف سے لپیٹی جا سکے۔

قمیص گردن سے گھٹنوں کے نیچے تک ہو اور آگے پیچھے سے برابر ہو، اس میں عام قمیص کی طرح آستینیں اور اطراف میں سلائی نہیں ہوتی۔

میت کو قمیص پہنانے کے لیے مرد کی قمیص کو کندھے پر جبکہ عورت کی قمیص کو سینے کی طرف سے چیریں۔

قمیص کو کناروں سے لپیٹا نہیں جاتا اس لیے اس کی چوڑائی ازار اور لفافہ سے کم ہو۔

Share:
keyboard_arrow_up