Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 58 of 90

لفافہ وہ چادر ہے جو میت کے قد سے اتنی زیادہ لمبی ہو کہ دونوں طرف باندھی جا سکے۔ عورت کے لیے اوڑھنی کی مقدار تین ہاتھ یعنی ڈیڑھ گز ہے جبکہ سینہ بند سینے سے لے کر رانوں تک ہونا چاہیے۔

کفن پہنانے کا طریقہ:

کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ کفن کے کپڑوں کو خوشبو لگا کر بستر پر پہلے بڑی چادر (لفافہ) بچھائیں اس کے اوپر دوسری چادر (ازار) بچھا دیں۔ پھر قیص اس طرح بچھائیں کہ نیچے والا حصہ چادر پر ہو اور اوپر والا حصہ چارپائی کے سرہانے کی طرف کر دیا جائے۔ پھر میت کو اس پر لٹا کر اس کے سر کو قمیص کے چاک کیے ہوئے حصے سے گزار دیں پھر میت کے جسم پر خوشبو ملیں اور سجدے کی جگہوں یعنی پیشانی، ناک، ہاتھ ، گھٹنے اور پاؤں کی پشت پر کافور لگائیں۔ میت عورت ہو تو قمیص یعنی کفنی پہنا کر سر کے بالوں کو دو حصے کر کے ایک کو ایک طرف سے اور دوسرے کو دوسری طرف سے قمیص کے اوپر سینہ پر ڈال دیں پھر اوڑھنی کو نصف پشت کے نیچے سے بچھا کر سر پر لا کر منہ پر نقاب کی طرح ڈال دیں تا کہ سینہ پر ہی رہے۔

پھر ازار کو پہلے بائیں اور پھر دائیں طرف سے میت پر لپیٹیں اسی طرح لفافے کو بھی پہلے بائیں اور پھر دائیں طرف سے لپیٹ دیں تاکہ دائیں طرف اوپر رہے۔ پھر سب کے اوپر سینہ بند اس طرح باندھیں کہ پستان کے اوپر سے ران تک رہے۔

کفن کے ساتھ اسی طرح کا کچھ زائد کپڑا بھی لینا چاہیے تا کہ اس سے تین دورے بنا کر سر کی اور پاؤں کی طرف سے باندھ دیں اور اگر ضرورت ہو تو درمیان میں بھی باندھ دیں مگر زیادہ تنگ کر کے نہ باندھیں، اس درمیانی بند کو دفن کے وقت کھول دیا جائے۔

طعامِ میت کے مسائل

سوال: کسی مسلمان کے انتقال پر جو عزیز واقارب یا محلے والے جمع ہوتے ہیں انہیں میت کے گھر سے کھانا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ شریعتِ مطہرہ کی رُو سے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : اس موضوع پر مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ نے ”فتاویٰ رضویہ“ میں نہایت جامع گفتگو فرمائی ہے اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔ کسی مسلمان کے انتقال پر اس کے یہاں جو عزیز واقارب اور محلے والے جمع ہوتے ہیں ان کے لیے میت کے اہلِ خانہ کا کھانے پینے کا انتظام کرنا جائز نہیں۔

اس کی چار وجوہات ہیں:

اول: دعوت خوشی کے موقع پر ہوتی ہے نہ کہ غم کے موقع پر۔ نیز اہلِ میت کو غم والم کے باعث کھانے کا اہتمام کرنا دشوار ہوتا ہے۔ صحابَۂ کرام علیہم الرضوان اہلِ میت کے یہاں ٹھہرے رہنے اور دعوت طعام کو میت کے لیے نوحہ کی مثل سمجھتے تھے جس کی حرمت پر متواتر حدیثیں موجود ہیں۔

دوم: اگرورثاء میں سے کوئی نابالغ ہے تو اس کا مال خرچ کرنے کا اختیار کسی کو نہیں اور اگر کوئی وارث موجود نہیں تو اس کے مال میں بغیر اس کی اجازت تصرف کرنا جائز نہیں لہٰذا کوئی بالغ اپنے ذاتی مال سے خرچ کرے یا ترکہ د ے جبکہ سب ورثاء بالغ موجود و راضی ہوں۔

سوم: وہاں عزیزوں کی عورتیں جمع ہوتی ہیں جو اکثر نا جائز کام کرتی ہیں مثلاً چلا کر رونا پیٹنا، بناوٹ سے منہ ڈھانکنا وغیرہ یہ سب نوحہ کرنا ہے جو کہ حرام ہے۔ ایسے مجمع کے لیے میت کے عزیزوں کا بھی کھانا بھیجنا جائز نہیں۔

چہارم:  اکثر لوگوں کو اس بری رسم کے باعث جاہلوں کے طعنوں سے بچنے کے لیے اپنی طاقت سے زیادہ اہتمام کرنا پڑتا ہے اور وہ اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہو جاتے ہیں بعض اس کے لیے قرض لیتے ہیں ایسا تکلف تو شریعت کو مباح کام کے لیے بھی پسند نہیں چہ جائیکہ ایک ممنوع رسم کے لیے ایسا کیا جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up