Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 59 of 90

اللّٰہ عزوجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کہ ایسی بری رسوم کو جن سے ان کے دین ودنیا دونوں کا نقصان ہے فوراً چھوڑ دیں اور بیہودہ طعنوں کا ہرگز خیال نہ کریں۔ صرہ اف ایک دن یعنی پہلے روز ہی عزیزوں ہمسائیوں کو مسنون ہے کہل میت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جسے وہ دو وقت کھاسکیں اور بَہ اصرار انہیں کھلا ئیں مگر یہ کھانا صرف اہل میت ہی کے لیے ہونا سنت ہے۔

ایصالِ ثواب کیوں ضروری ہے؟

سوال : کیا مُردوں کو ایصالِ ثواب سے نفع پہنچتا ہے؟ کسی کے انتقال پر تیجہ، دسواں اور چہلم کیا جاتا ہے نیز اکثر جمعرات کو فاتحہ دلائی جاتی ہے اس کی کیا اصل ہے؟ یہ بھی فرمائیے کہ کیا دوسروں کو ثواب بخش دینے سے ہمیں کوئی ثواب نہیں ملتا؟

جواب : ارشادِ باری تعالی ہے:

”عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے“۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان اپنی مغفرت کے ساتھ اپنے مرحوم دینی بھائیوں کی مغفرت کی بھی دعا مانگتے ہیں۔ ایصالِ ثواب دعائے مغفرت ہی کی ایک صورت ہے جو متعدد احادیث سے ثابت ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی ہے کہ: ایک شخص نے بارگاہِ نبوی میں سوال کیا، یا رسول اللّٰہ میری والدہ کا اچانک انتقال ہو گیا، اگر میں ان کے لیے صدقہ خیرات کروں تو کیا انہیں ثواب پہنچے گا ؟ ارشاد فرمایا: ہاں انہیں ثواب ضرور پہنچے گا۔

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی،

یا رسول اللّٰہ ہم اپنے مُردوں کے لیے دعا ئیں، صدقات و خیرات اور حج کرتے ہیں کیا یہ چیزیں انہیں پہنچتی ہیں؟

فرمایا: ہاں ضرور پہنچتی ہیں اور وہ ان سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے تم ایک دوسرے کے ہدیے سے خوش ہوتے ہو۔

اہلسنت کے نزدیک مالی اور بدنی دونوں قسم کی عبادات کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچایا جا سکتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کچھ لوگوں سے فرمایا، تم میں سے کون اس بات کی ذمہ داری لیتا ہے کہ وہ مسجد عشار میں میرے لیے دو چار رکعات نفل پڑھ دے اور کہے کہ یہ نماز ابو ہریرہ کے ایصال ثواب کے لیے ہے۔

معلوم ہوا کہ بدنی عبادت یعنی نماز کا ثواب بھی کسی دوسرے کو بخشنا جائز ہے خواہ زندہ کو ہی ایصال ثواب کیا جائے۔ ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایصالِ ثواب سے مُردوں کو نفع ہوتا ہے۔

رسول معظم کا فرمان عالیشان ہے:

”جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بھی ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے جن کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے۔

اول: صدقہ جاریہ،

دوم: وہ علم جس سے لوگوں کو نفع پہنچتا رہے،

سوم: وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے۔

یہ حدیث پاک بھی زندوں کے اعمال سے میت کو نفع پہنچنے کی بہترین دلیل ہے۔

آقا و مولیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

دین خیر خواہی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کی ، ائمہ دین کی اور عام مسلمانوں کی۔

مسلمانوں کی خیر خواہی اور بھلائی چاہنے کی ان کے وصال کے بعد یہی صورت ہے کہ ان کے لیے دعائے مغفرت کی جائے اور ایصال ثواب کے ذریعے انہیں فائدہ پہنچایا جائے۔ تیجہ، دسواں، چالیسواں اور برسی وغیرہ سب ایصالِ ثواب ہی کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں میت کے ایصال ثواب کے لیے قرآن کریم کی تلاوت، کلمہ طیبہ درود شریف، استغفار اور ذکر واذکار کے علاوہ صدقہ خیرات کیا جاتا ہے جو سب نیک کام ہیں اور سنت مطہرہ سے ثابت ہیں۔

حضور نے فرمایا:”  قبر میں میت ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہوتی ہے کہ اپنے ماں باپ بھائی یا دوست کی دعائے خیر پہنچنے کی منتظر رہتی ہے پھر جب اسے دعا پہنچ جاتی ہے تو اسے یہ دعا دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ زمین والوں کی دعا سے قبر والوں کو ثواب کے پہاڑ دیتا ہے، یقیناً مُردوں کے لیے زندوں کا تحفہ دعائے مغفرت ہے“۔ 

Share:
keyboard_arrow_up