جب کوئی مسلمان وفات پاتا ہے تو اسے زندوں کی طرف سے شروع کے دنوں میں ایصالِ ثواب کی زیادہ حاجت ہوتی ہے اس لیے اس کی وفات سے ہی اِیصالِ ثواب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں: ” میت کے انتقال کے بعد سات روز تک صدقہ کیا جائے“۔ پھر فرماتے ہیں: بعض روایات میں آیا ہے کہ جمعہ کی رات کو میت کی روح اپنے گھر آتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کی طرف سے اس کے گھر والے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں۔
ہر جمعرات کو فاتحہ کرنے کی اصل یہی ہے۔ ”انوارِ ساطعہ“ میں ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے حضرت سیدنا حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے ایصالِ ثواب کے لیے تیسرے، ساتو یں اور چالیسویں دن اور سال بعد بھی صدقہ دیا۔ علماء کرام نے اس سے سوئم، چہلم اور برسی کی اصل بیان کی ہے۔
شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ کے سوئم کے متعلق شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ اپنے ملفوظات میں صفحہ ۸۰ پر لکھتے ہیں: ” تیسرے دن لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ شمار نہیں ہو سکتا۔ اکیاسی (۸۱) قرآن کریم تلاوت کیے گئے اور زیادہ بھی ہوئے ہونگے ، کلمہ طیبہ کا تو اندازہ ہی نہیں۔
معلوم ہوا کہ تیجہ دسواں اور چالیسواں وغیرہ مسلمانوں میں صدیوں سے رائج ہیں۔ ان دنوں کی تخصیص کو کوئی شرعی نہیں سمجھتا اور نہ ہی کوئی یہ کہتا ہے کہ بس اسی دن اور تاریخ کو ایصالِ ثواب کیا جائے تو پہنچے گا ورنہ نہیں۔ بلکہ قرآن مجید کی تلاوت اور خیرات وغیرہ کا سلسلہ تو میت کے انتقال کے وقت سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ چونکہ شرعاً تعزیت کا وقت تین دن تک ہے۔ اس لیے تعزیت کے آخری دن لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہو کر تلاوتِ قرآن اور کلمہ طیبہ پڑھ کر میت کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں۔ دن کا تعین کرنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ مقررہ تاریخ اور وقت پر لوگوں کو جمع ہونے میں آسانی ہوتی ہے اس طرح سب اجتماعی دعا میں شریک ہو جاتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں:
تیسرے دن کی خصوصیت بھی شرعی اور عرفی مصلحتوں کی بنا پر ہے۔ شریعت میں تو ثواب پہنچانا ہے، دوسرے دن ہو خواہ تیسرے دن، جب چاہیں ایصال ثواب کریں البتہ یہ ضروری ہے کہ میت کا کھانا صرف فقراء میں تقسیم کیا جائے، غنی لوگ اس میں سے نہ لیں۔ باقی جو بیہودہ باتیں لوگوں نے نکالی ہیں مثلاً اس میں شادی کے سے تکلف کرنا، عمدہ عمدہ فرش بچھانا وغیرہ بے جا باتیں ہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ثواب تیسرے دن ہی پہنچتا ہے یا اس دن زیادہ پہنچے گا دوسرے دنوں میں کم ، تو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔
اسی طرح سوئم کے لیے چنوں کا ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی چنے بانٹنے کے سبب کوئی برائی پیدا ہوتی ہے۔
مالی و بدنی عبادات کا ثواب مُردوں کو پہنچا دینے سے ایصالِ ثواب کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے گا ، یہ نہیں کہ وہی ثواب تقسیم ہو کر سب کو ٹکڑا ٹکڑا ملے ۔ بلکہ امید یہ ہے کہ اس ثواب پہنچانے والے کو ان سب کے مجموعہ کے برابر ثواب ملے ۔
مثلاً: کوئی نیک کام کیا جس کا ثواب دس گنا ہے۔ اس نے اس کا ثواب دس مُردوں کو بخش دیا تو ہر ایک کو دس دس ملیں گے اور اس کو ایک سو دیں۔ اور اگر ہزار کو پہنچایا تو اسے دس ہزار دس ۔

