Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 61 of 90

باب ہشتم

بدعت کا فلسفہ بدعت کی تعریف واقسام

سوال: بدعت کسے کہتے ہیں؟ اس کی کتنی اقسام ہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب: بدعت کے لغوی معنی ”نئی چیز ایجاد کرنے“ کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں ہر وہ بات جو نبی کریم کے زمانَۂ اقدس کے بعد پیدا ہو بدعت ہے۔

صدر الشریعہ علامہ مولانا امجد علی قادری رحمہ اللّٰہ بدعت کی اقسام کے متعلق فرماتے ہیں :

بدعت مذمومہ و قبیحہ (یعنی بری بدعت) ہے جو کسی سنت کے مخالف و مزاحم ہو اور یہ مکروہ یا حرام ہے۔ مطلق بدعت تو مستحب بلکہ سنت بلکہ واجب تک ہوتی ہے۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ تراویح کی نسبت فرماتے ہیں:

نعمۃ البدعۃ هذه۔ یہ اچھی بدعت ہے حالانکہ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے۔ جس کام کی اصل شرع شریف سے ثابت ہو وہ ہرگز بدعت قبیحہ نہیں ہو سکتا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

”اور راہب بنتا، تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی، ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی، ہاں یہ بدعت انہوں نے اللّٰہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا کہ اس کے نباہنے کا حق تھا، تو ان کے ایمان والوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا۔

اس کی تفسیر میں صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی قدس سره فرماتے ہیں:

اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دین میں کسی بات کا نکالنا اگر وہ بات نیک ہو اور اس سے رضائے الٰہی مقصود ہو تو بہتر ہے، اس پر ثواب ملتا ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہیے، ایسی بدعت کو بدعت حسنہ کہتے ہیں۔

البتہ دین میں بری بات نکالنا بدعت سیئہ کہلاتا ہے وہ ممنوع اور ناجائز ہے۔ بدعتِ سیئہ حدیث شریف میں وہ بتائی گئی ہے جو خلاف سنت ہو، اس کے نکالنے سے کوئی سنت اٹھ جائے۔ اس سے ہزار ہا مسائل کا فیصلہ ہو جاتا ہے جن میں آج کل لوگ اختلاف کرتے ہیں اور اپنی ہوائے نفسانی سے ایسے امور خیر کو بدعت بنا کر منع کرتے ہیں جن سے دین کی تقویت و تائید ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اخروی فوائد پہنچتے ہیں اور وہ طاعات و عبادات میں ذوق و شوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں ایسے امور کو (بری) بدعت بتانا قرآن مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے“۔

اپنے دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا ”تطوع“ کہلاتا ہے اسے فقہی اصطلاح میں ”مستحب“ کہتے ہیں۔

قرآن مجید میں اس بارے میں ارشاد ہوا:

”جو کوئی اپنی خوشی سے کرے کچھ نیکی، تو اللّٰہ قدردان ہے سب کچھ جاننے والا۔

دوسری جگہ فرمایا گیا:

پھر جو خوشی سے کرے نیکی تو اچھا ہے اس کے واسطے۔

ان آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مومن اپنی خوشی سے کوئی بھی اچھا کام اختیار کر سکتا ہے خواہ وہ کام نیا ہی کیوں نہ ہو؛ اس پر احادیث صحیحہ بھی گواہ ہیں۔

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے دور خلافت میں ان سے عرض کی،

جنگ یمامہ میں کثیر حفاظ صحابہ شہید ہو گئے، اگر یونہی جنگوں میں حافظ شہید ہوتے رہے تو قرآن کی حفاظت مسئلہ بن جائے گی اس لیے میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن کو (کتابی صورت میں ) جمع کرنے کا حکم دیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، میں وہ کام کس طرح کروں جو رسول معظم نے نہیں کیا؟

آپ نے عرض کی: اگر چہ یہ کام حضور ﷺ    نے نہیں کیا مگر خدا کی قسم یہ کام بہتر ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر (رضی اللہ عنہ ) زور دیتے رہے یہاں تک کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میں ان کی رائے سے متفق ہو گیا۔

پھر آپ نے زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ کو بلا کر اس کام کا حکم دیا تو انہوں نے بھی یہی عرض کی، آپ وہ کام کیوں کرتے ہیں جو آقا نے نہیں کیا؟ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، خدا کی قسم یہ کام بھلائی کا ہے۔ یہاں تک کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا سینہ بھی کھول دیا اور انہوں نے قرآن عظیم جمع کیا۔ 

Share:
keyboard_arrow_up