اس حدیث کے تحت چودھویں صدی ہجری کے مجدد، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللّہ علیہ فرماتے ہیں:
”جب زید بن ثابت نے سیدنا صدیق اکبر اور صدیق اکبر نے فاروق اعظم (رضی اللہ عنہم ) پر اعتراض کیا تو ان حضرات نے یہ جواب نہ دیا کہ نئی بات نکالنے کی اجازت نہ ہونا تو پچھلے زمانہ میں ہوگا، ہم صحابہ ہیں، ہمارا زمانہ خیر القرون سے ہے؛ بلکہ یہی جواب دیا کہ یہ کام اگر چہ حضور اقدس ﷺ نے نہ کیا مگر یہ اپنی ذات میں بھلائی کا کام ہے پس کیونکر ممنوع ہو سکتا ہے اور اسی پر صحابہ کرام کی رائے متفق ہوئی اور قرآن عظیم باتفاق حضرات صحابَۂ کرام جمع ہوا۔
بدعت کے بُری ہونے کے لیے دور صحابہ کے بعد ہونا شرط نہیں چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے تقدیر کے منکر کو بدعتی قرار دیا اور اسے سلام کرنے سے منع فرمادیا۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمتہ اللّٰہ علیہ اس بارے میں رقم طراز ہیں:سیدنا عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما چاشت کی نسبت فرماتے ہیں:
”بیشک وہ بدعت ہے اور کیا ہی عمدہ بدعت ہے اور بیشک وہ ان بہتر چیزوں میں سے ہے جو لوگوں نے نئی نکالیں“۔
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں:
”تم لوگوں نے قیام رمضان نیا نکالا، تو اب جو نکالا ہے تو ہمیشہ کیے جاؤ اور کبھی نہ چھوڑنا۔
دیکھو یہاں تو صحابَۂ کرام نے ان افعال کو بدعت کہہ کر حسن کہا اور انہی عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے مسجد میں ایک شخص کو تصویب کہتے سن کر اپنے غلام سے فرمایا: ” نکل چل ہمارے ساتھ اس بدعتی کے پاس سے“۔
سیدنا عبد اللّٰہ بن مغفل رضی اللّٰہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو نماز میں بسم الله با آواز بلند پڑھتے سن کر فرمایا:
اے میرے بیٹے ! یہ نو پیدا بات ہے، بچ نئی باتوں سے۔
یہ فعل بھی اسی زمانے میں واقع ہوئے تھے، انہیں بدعت کہہ کر بدعت سیئہ مذمومہ ٹھہرایا، تو معلوم ہوا کہ صحابہ کے نزدیک بھی اپنے زمانے میں ہونے یا نہ ہونے پر (بدعت کا) دارومدار نہ تھا بلکہ وہ نفسِ فعل کو دیکھتے، اگر اس میں کوئی محذور شرعی نہ ہوتا تو اجازت دیتے ورنہ منع فرماتے، اور یہی طریقہ تابعین و تبع تابعین کے زمانہ میں رائج رہا ہے۔
حبیب کبریا ﷺ کا فرمان عالیشان ِہے:
جس نے اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لیے اس کا ثواب ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کی مثل بھی اسے ثواب ہوگا اور ان بعد والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور جس نے اسلام میں برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اس کا گناہ ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا بھی گناہ ہوگا جبکہ ان بعد والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“
شارح مسلم، امام نووی فرماتے ہیں:
”اس سے معلوم ہوا کہ اچھے امور کا ایجاد کرنا مستحب ہے اور برے امور کا ایجاد کرنا حرام ہے۔ نئے امور کی ایجاد کے لیے آقا و مولیٰ ﷺ نے چند شرائط بیان فرمائی ہیں جن پر ان نئے کاموں کے اچھے یا برے ہونے کا دار و مدار ہے۔“
حضور ﷺکا ارشاد ہے:
”بہترین کلام اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد رسول اللّٰہ ﷺ کا طریقہ ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے ایجاد ہوں اور ہرنئی چیز گمراہی ہے۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
”جس نے ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں، وہ مردود ہے“۔
ایک اور جگہ فرمایا:
”میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت تم پر لازم ہے، اس کو نہایت مضبوطی سے تھام لو اور نئی نئی باتوں سے بچو کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

