Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 63 of 90

ان احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ وہ نئے عقائد یا اعمال جو قرآن کریم یا سیرت مصطفےٰ یا سیرت خلفائے راشدین کے خلاف ہوں یا جن کی اصل دین میں موجود نہ ہو، وہ سب بدعتِ سیئہ اور گمراہی ہیں۔

امام عسقلانی” فتح الباری شرح صحیح بخاری“ میں فرماتے ہیں:

بدعت اگر کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی خوبی شرع سے ثابت ہے تو وہ اچھی ہے اور اگر کسی ایسی چیز کے نیچے داخل ہو جس کی برائی شرع سے ثابت ہے تو وہ بری ہے اور جو دونوں میں سے کسی سے متعلق نہ ہو وہ مباح ہے۔

امام بیہقی امام شافعی (رحمۃ اللّٰہ علیہما) سے روایت کرتے ہیں کہ

”نئی باتیں دو قسم کی ہیں ایک وہ کہ قرآن یا احادیث یا آثار یا اجماع کے خلاف ہوں یہ بدعت گمراہی ہیں۔

دوسری وہ جو خیر پر مبنی ہوں اور ان کے خلاف نہ ہوں وہ بری نہیں ہیں “۔

مذکورہ آیات و احادیثِ مبارکہ اور ائمہ دین کے اقوال سے ثابت ہو گیا کہ جو بدعت قرآن و سنت کے خلاف ہو اسے بدعتِ سیئہ اور جو ان کے خلاف نہ ہو اسے بدعتِ حسنہ کہتے ہیں۔

محدث علی قاری حنفی رحمۃ اللّٰہ علیہ بدعت کی اقسام کے متعلق فرماتے ہیں:

”بدعت یا تو واجب ہے جیسے کہ علم نحو کا سیکھنا اور اصولِ فقہ کا جمع کرنا؛ اور یا حرام ہے جیسے کہ جبریہ مذہب ؛ اور یا مستحب ہے جیسے کہ مسجدوں کو فخریہ زینت دینا اور یا جائز ہے جیسے فجر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا اور عمدہ عمدہ کھانوں اور شربتوں میں وسعت کرنا۔

اگر بدعات حسنہ اور سیئہ کا فرق نہ کیا جائے تو موجودہ دور کے بیشتر کام جو ثواب سمجھ کر کیے جاتے ہیں معاذ اللّٰہ حرام ہو جائیں گے حالانکہ محفلِ میلاد اور گیارھویں شریف کو بدعت و حرام کہنے والے خود ان کاموں کو ثواب کا باعث سمجھتے ہیں۔

مثلاً قرآن کریم خط نسخ میں لکھنا، اس کے الفاظ پر اعراب ڈالنا، تیسں پاروں میں تقسیم کرنا، اس کے مختلف زبانوں میں ترجمے کرنا، گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے حج کا سفر کرنا اور اس کے لیے پاسپورٹ ویزا جاری کرانا، تفسیر و حدیث اور فقہ کی کتابیں، دار العلوم کا نصاب، نماز یا دینی علوم پڑھانے کی تنخواہ لینا، طلبہ کا امتحان لینا تقسیم اسناد کا جلسہ، مساجد میں محراب و گنبد اور مینار بنانا ، ان میں ماربل کے فرش اور قالین بچھانا بجلی کے پنکھے، لائٹیں وغیرہ لگانا، ایئر کنڈیشنر اور گیزر لگانا وغیرہ بیشمار نئے کام ایسے ہیں جنہیں کارِ ثواب سمجھ کر منکرین نہ صرف خود کرتے ہیں بلکہ ان بدعتوں کے لیے چندے کی اپیلیں بھی کرتے ہیں۔

یہ امر باعثِ افسوس ہے کہ فی الواقع جو بری بدعات مسلمانوں میں رائج ہوگئی ہیں مثلاً داڑھی منڈانا، عورتوں کا بے پردہ بن سنور کر نکلنا، مرد و عورت کا باہم مشابہت کرنا ، گانے بجانے کی مجلسیں، وی سی آر، ڈش اینٹینا، تصویر سازی، کھڑے ہو کر کھانا پینا، یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنا وغیرہ ان بدعات کی مخالفت کرنے کی بجائے مخالفین ان نیک و مستحب کاموں کو کیوں بدعتِ سیئہ و حرام قرار دیتے ہیں جن سے دلوں میں آقائے دو جہاں کی محبت و عظمت کی روشنیاں پھیلتی ہیں اور محبوبانِ خدا سے عقیدت کا تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ باری تعالیٰ ایسے گمراہوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے آمین۔

Share:
keyboard_arrow_up