Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 64 of 90

 باب نہم

شعائر اہلسنت عیدِ میلاد النبی

سوال : بعض لوگ عیدِ میلاد النبی منانے اور محافلِ میلاد منعقد کرنے کو بدعت و حرام کہتے ہیں۔ قرآن و سنت اور ائمہ دین کے اقوال کی روشنی میں عید میلاد النبی  کی شرعی حیثیت بیان فرمائیے۔

جواب : بارہ ربیع الاول کو آقائے دو جہاں کی ولادت باسعادت کی خوشی میں پورے عالمِ اسلام میں محافل میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔ حضور اکرم  کا میلاد منانا جائز و مستحب ہے اور اس کی اصل قرآن وسنت سے ثابت ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا :

”اور انہیں اللّٰہ کے دن یاد دلاؤ “۔

امام المفسرین سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے نزدیک ایامُ اللّٰہ سے مراد وہ دن ہیں جن میں رب تعالیٰ کی کسی نعمت کا نزول ہوا ہو۔ ان ایام میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم کی ولادت و معراج کے دن ہیں، ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔

بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت نبی کریم کی ذاتِ مقدسہ ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

”بیشک اللّٰہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا“ ۔

آقا و مولیٰ تو وہ عظیم نعمت ہیں کہ جن کے ملنے پر رب تعالیٰ نے خوشیاں منانے کا حکم بھی دیا ہے۔

ارشاد ہوا:

(اے حبیب!) تم فرماؤ (یہ) اللّٰہ ہی کے فضل اور اس کی رحمت (سے ہے) اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں، وہ (خوشی منانا ) ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے“۔

ایک اور مقام پر نعمت کا چرچا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا:

اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

خلاصہ یہ ہے کہ عید میلاد منانا لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے دن یاد دلانا بھی ہے، اس کی نعمتِ عظمیٰ کا چرچا کرنا بھی اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی منانا بھی۔

اگر ایمان کی نظر سے قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ذکرِ میلاد مصطفےٰ اللّٰہ تعالیٰ کی سنت بھی ہے اور رسولِ کریم کی سنت بھی۔

سورۂ اٰل عمران کی آیت ۸۱ ملاحظہ کیجیے۔

رب ذوالجلال نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی محفل میں اپنے حبیب لبیب کی آمد اور فضائل کا ذکر فرمایا۔ گویا یہ سب سے پہلی محفل میلاد تھی جسے اللّٰہ تعالیٰ نے منعقد فرمایا اور اس محفل کے شرکاء صرف انبیاء کرام علیہم السلام تھے۔

حضور کی دنیا میں تشریف آوری اور فضائل کا ذکر قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ میں موجود ہے۔ رسولِ معظم نورِ مجسم ﷺ  کے مبارک زمانہ کی چند محافل میلاد کا ذکر ملاحظہ فرمائیے۔

آقا و مولیٰ نے خود مسجد نبوی میں منبر شریف پر اپنا ذکر ولادت فرمایا۔

آپ نے حضرت حسان رضی اللّٰہ عنہ کے لیے منبر پر چادر بچھائی اور انہوں نے منبر پر بیٹھ کر نعت شریف پڑھی، پھر آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔

حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ نے غزوۂ تبوک سے واپسی پر بارگاہ رسالت میں ذکر میلاد پر مبنی اشعار پیش کیے۔

اسی طرح حضرت کعب بن زہیر ، سواد بن قارب، عبداللّٰہ بن رواحہ، کعب بن مالک و دیگر صحابَۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم کی نعتیں کتب احادیث وسیرت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

بعض لوگ یہ وسوسہ اندازی کرتے ہیں کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں لہٰذا تیسری عید حرام ہے (معاذ اللّٰہ ) ۔ اس نظریہ کے باطل ہونے کے متعلق قرآن کریم سے دلیل لیجیے۔

ارشادِباری تعالیٰ ہے:

”عیسیٰ بن مریم نے عرض کی، اے اللّٰہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک (کھانے کا) خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی“۔

Share:
keyboard_arrow_up