Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 65 of 90

صدر الافاضل فرماتے ہیں:

”یعنی ہم اس کے نزول کے دن کو عید بنا ئیں، اس کی تعظیم کریں، خوشیاں منائیں، تیری عبادت کریں، شکر بجالائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس روز اللّٰہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہو اس دن کو عید بنانا اور خوشیاں منانا، عبادتیں کرنا اور شکر بجا لانا صالحین کا طریقہ ہے اور کچھ شک نہیں کہ سید عالم کی تشریف آوری اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت اور بزرگ ترین رحمت ہے اس لیے حضور ﷺ   کی ولادت مبارکہ کے دن عید منانا اور میلادشریف پڑھ کر شکرِ الٰہی بجا لانا اور اظہار فرح اور سُرور کرنا مستحسن و محمود اور اللّٰہ کے مقبول بندوں کا طریقہ ہے۔“

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما  نے آیت ”اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ“ تلاوت فرمائی تو ایک یہودی نے کہا: اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔ اس پر آپ نے فرمایا:یہ آیت جس دن نازل ہوئی اس دن دو عیدیں تھیں؛ عید جمعہ اور عید عرفہ۔

پس قرآن و حدیث سے ثابت ہو گیا کہ جس دن کوئی خاص نعمت نازل ہو اس دن عید منانا جائز بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کی سنت ہے۔ چونکہ عید الفطر اور عید الاضحٰی حضور ہی کے صدقے میں ملی ہیں اس لیے آپ کا یوم میلاد بدرجہ اولیٰ عید قرار پایا۔

عید میلاد پہ ہوں قربان ہماری عیدیں

کہ اس عید کا صدقہ ہیں یہ ساری عیدیں

شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ اکابر ائمہ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ

”شب میلاد مصطفےٰ شب قدر سے افضل ہے؛ کیونکہ شب قدر میں قرآن نازل ہوا اس لیے وہ ہزار مہینوں سے بہتر قرار پائی تو جس شب میں صاحب قرآن آیا وہ کیونکر شبِ قدر سے افضل نہ ہوگی؟

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ

ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ نے اسے خواب میں بہت بری حالت میں دیکھا اور پوچھا: مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابو لہب نے کہا: تم سے جدا ہو کر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اس کے کہ میں تھوڑاسا سیراب کیا جاتا ہوں کیونکہ میں نے محمد کی پیدائش کی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔

امام ابن جزری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ

”جب حضور کے میلاد کی خوشی کی وجہ سے ابولہب جیسے کافر کا یہ حال ہے کہ اس کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے حالانکہ اس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا تو حضور کے مومن امتی کا کیا حال ہوگا جو میلاد کی خوشی میں حضور کی محبت کے سبب مال خرچ کرتا ہے۔ قسم ہے میری عمر کی ، اس کی جزا یہی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اُسے اپنے فضل و کرم سے جنت نعیم میں داخل فرما دے۔“

اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ خالقِ کائنات نے اپنے محبوب رسول ﷺ  کا جشن عید میلاد کیسے منایا ؟

سیرت حلبیہ اور خصائصِ کبریٰ میں یہ روایت موجود ہے

کہ جس سال نور مصطفےٰ     حضرت آمنہ رضی اللّٰہ عنہا کو ودیعت ہوا وہ سال فتح و نصرت، ترو تازگی اور خوشحالی کا سال کہلایا۔ اہلِ قریش اس سے قبل معاشی بدحالی اور قحط سالی میں مبتلا تھے۔ حضور ﷺ  کی ولادت کی برکت سے اس سال رب کریم نے ویران زمین کو شادابی اور ہریالی عطا فرمائی، سوکھے درخت پھلوں سے لدگئے اور اہلِ قریش خوشحال ہو گئے۔“ اہلسنت اسی مناسبت سے میلادِ مصطفےٰ ﷺ  کی خوشی میں اپنی استطاعت کے مطابق کھانے ، شیرینی اور پھل وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up