Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 66 of 90

عید میلاد النبی کے موقع پر شمع رسالت کے پروانے چراغاں بھی کرتے ہیں، اس کی اصل مندرجہ ذیل احادیث مبارکہ ہیں؛

آقا و مولیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

”میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ اُن سے ایسا نور نکلا جس سے ملک شام کے محلات روشن ہو گئے“۔

حضرت آمنہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

”جب آپ کی ولادت ہوئی تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق سے مغرب تک ساری کائنات روشن ہو گئی۔

ہم تو عید میلاد کی خوشی میں اپنے گھروں اور مساجد پر چراغاں کرتے ہیں، خالقِ کائنات نے نہ صرف ساری کائنات میں چراغاں کیا بلکہ آسمان کے ستاروں کو فانوس اور قمقمے بنا کر زمین کے قریب کر دیا۔

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللّٰہ عنہ کی والدہ فرماتی ہیں:

”جب آپ کی ولادت ہوئی میں خانہ کعبہ کے پاس تھی، میں نے دیکھا کہ خانہ کعبہ نور سے روشن ہوگیا اور ستارے زمین کے اتنے قریب آ گئے کہ مجھے یہ گمان ہوا کہ کہیں وہ مجھ پر گر نہ پڑیں۔

سیدتنا آمنہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

”میں نے تین جھنڈے بھی دیکھے، ایک مشرق میں گاڑا گیا تھا دوسرا مغرب میں اور تیسرا جھنڈا خانہ کعبہ کی چھت پر لہرا رہا تھا۔یہ حدیث ”الوفا باحوالِ المصطفٰے ﷺ  “میں محدث ابن جوزی نے بھی روایت کی ہے۔ اس سے میلاد النبی ﷺ  کے موقع پر جھنڈے لگانے کی اصل بھی ثابت ہوئی۔

عید میلاد النبی کے موقع پر جلوس بھی نکالا جاتا ہے اور نعرہ، رسالت بلند کیے جاتے ہیں۔ اس کی اصل یہ حدیث پاک ہے کہ

” جب آقا و مولی ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہلیانِ مدینہ نے جلوس کی صورت میں استقبال کیا“ ۔

حدیث شریف میں ہے کہ ”مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور خدام گلیوں میں پھیل گئے؛ یہ سب باآواز بلند کہہ رہے تھے ،” یا محمد یا رسول اللہ ، یا محمد یا رسول اللہ ﷺ“۔

جشنِ عیدِ میلاد النبی کی شرعی حیثیت بیان کرنے کے بعد اب چند تاریخی حوالہ جات پیشِ خدمت ہیں جن سے ثابت ہو جائے گا کہ محافل میلاد کا سلسلہ عالم اسلام میں ہمیشہ سے جاری ہے۔

محدث ابن جوزی رحمہ اللہ (متوفی ۵۹۷ ھ ) فرماتے ہیں:مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، یمن، مصر، شام اور تمام عالمِ اسلام کے لوگ مشرق سے مغرب تک ہمیشہ سے حضور اکرم کی ولادت باسعادت کے موقع پر محافلِ میلاد کا انعقاد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہتمام آپ کی ولادت کے تذکرے کا کیا جاتا ہے اور مسلمان ان محافل کے ذریعے اجر عظیم اور بڑی روحانی کامیابی پاتے ہیں ۔

امام ابن حجر شافعی رحمہ اللہ (م ۸۵۲ھ) فرماتے ہیں: ”محافل میلاد واذکار اکثر خیر ہی پر مشتمل ہوتی ہیں کیونکہ ان میں صدقات، ذکرِ الٰہی اور بارگاہ نبوی میں درود و سلام پیش کیا جاتا ہے۔“

امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ (م 911 ھ) فرماتے ہیں:

”میرے نزدیک میلاد کے لیے اجتماع، تلاوت قرآن، حیاتِ طیبہ کے واقعات اور میلاد کے وقت ظاہر ہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعاتِ حسنہ میں سے ہے جن پر ثواب ملتا ہے کیونکہ اس میں حضور کی تعظیم اور آپ کی ولادت پر خوشی کا اظہار ہوتا ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up