امام قسطلانی شارح بخاری رحمہ اللہ (م ۹۲۳ھ) فرماتے ہیں:
ربیع الاول میں تمام اہلِ اسلام ہمیشہ سے میلاد کی خوشی میں محافل منعقد کرتے رہے ہیں۔ محفل میلاد کی یہ برکت مجرب ہے کہ اس کی وجہ سے سارا سال امن سے گزرتا ہے اور ہر مراد جلد پوری ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحمتیں نازل فرمائے جس نے ماہ میلاد کی ہر رات کو عید بنا کر ایسے شخص پر شدت کی جس کے دل میں مرض وعناد ہے۔
شاہ عبدالرحیم محدث دہلوی رحمہ اللہ (والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (م۱۱۷۶ھ) فرماتے ہیں کہ
”میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہوا، میں نے وہی چنے تقسیم کر دیے۔ رات کو خواب میں آقا و مولیٰﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا تو دیکھا کہ وہی بھنے ہوئےچنے سرکارِ دو عالم ﷺ کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپ بے حد خوش اور مسرور ہیں۔
ان دلائل و براہین سے ثابت ہو گیا کہ میلاد النبیﷺ کی محافل منعقد کرنے اور میلاد کا جشن منانے کا سلسلہ امتِ مسلمہ میں صدیوں سے جاری ہے اور اسے بدعت و حرام کہنے والے دراصل خود بدعتی و گمراہ ہیں۔
کھڑے ہو کر درود وسلام پڑھنا
سوال : بد مذہب و گمراہ لوگ کھڑے ہو کر درود وسلام پڑھنے کو بھی بدعتِ سیئہ و حرام بتاتے ہیں۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیجیے۔
جواب : ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے پر، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے، حبیبِ کبریا ﷺ پردرودبھیج رہےہیں۔اللّٰہ تعالیٰ تو بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے پاک ہے کیونکہ یہ مخلوق کی صفات ہیں البتہ بعض فرشتے سجدے کی حالت میں ہیں اور بعض رکوع کی حالت میں ، بعض قعدہ کی حالت میں ہیں اور بعض فرشتے وہ ہیں جو صفیں بنا کر کھڑے ہیں ۔
اور سب فرشتے دورد بھیج رہے ہیں غیب بتانے والے آقا ﷺ پر۔صحابَۂ کرام علیہم الرضوان سے لے کر آج تک تمام مسلمان مواجہ اقدس میں کھڑے ہوکر درود و سلام پیش کرتے آئے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ کھڑے ہو کر درود و سلام پیش کرنا بعض ملائکہ کی سنت بھی ہے نیز صحابَۂ کرام اور تمام زائرینِ بارگاہِ نبوی کا طریقہ بھی یہی ہے۔
اس آیت مبارکہ میں کسی خاص وقت یا کسی مخصوص حالت کا ذکر نہ فرمایا گیا بلکہ مطلق حکم دیا گیا تاکہ درود وسلام پڑھنا ہر وقت اور ہر حالت میں جائز قرار پائے ما سوائے اس کے کہ بعض اوقات و مواقع کی ممانعت کا شریعت حکم صادر کرے۔پس شرعاً ممنوع مواقع کے علاوہ جس وقت اور جس حالت میں درود وسلام پڑھا جائے مذکورہ حکمِ الٰہی کی تعمیل ہوتی ہے۔
مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
جب کسی بات کو شریعت نے پسندیدہ کہا ہے تو جس جگہ، جس وقت اور جس طرح وہ بات واقع ہوگی ہمیشہ پسندیدہ رہے گی جب تک کہ کسی خاص صورت کی ممانعت شریعت سے نہ آ جائے۔
مثلاً ذکرِ الٰہی کی خوبی اور اچھائی قرآن وحدیث سے ثابت ہے تو جب کہیں کسی طور خدا کا ذکر کیا جائے گا بہتر ہی ہوگا، ہر ہر حالت کا ثبوت شرع سے ضروری نہیں مگر بیت الخلاء میں بیٹھ کر زبان سے ذکر الہٰی کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس خاص صورت کی برائی شرع سے ثابت ہے۔

