Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 68 of 90

غرض یہ کہ جس مطلق بات کی خوبی معلوم ہو اس کی خاص خاص صورتوں کی جدا جدا خوبی ثابت کرنا ضروری نہیں کیونکہ وہ تمام صورتیں اسی مطلق بات کی ہیں جس کی خوبی ثابت ہو چکی ، البتہ کسی خاص صورت کو ناجائز و بُرا  بتانے کے لیے دلیل لانی ہو گی۔ ”سب چیزوں کی اصل جائز و مباح ہے“

اس فقہی قانون کے متعلق اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

جس چیز کی ممانعت شریعت سے ثابت ہے اور اس کی برائی پر شرعی دلیل موجود ہے وہی منع اور ناجائز ہے باقی سب چیزیں جائز و مباح ہیں۔

تو جو شخص کسی فعل کو ناجائز یا حرام یا مکروہ کہے اس پر واجب ہے کہ اپنے دعوے پر دلیل لائے۔ اسے جائز و مباح کہنے والوں کو ہرگز دلیل کی حاجت نہیں کیونکہ ممانعت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہونا یہی جواز کے لیے کافی ہے۔

آقا و مولیٰ کا فرمان عالیشان ہے:

”حلال وہ ہے جو خدا نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ جو خدا نے اپنی کتاب میں حرام فرمادیا اور جس کے بارے میں خاموشی فرمائی وہ معاف ہے یعنی اس کے فعل پر کچھ مواخذہ نہیں۔

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سب چیزوں کی اصل مباح ہونا ہے۔ پھر مزید دلائل دے کر فرماتے ہیں:

”پس مجلسِ میلاد و قیام ( درود و سلام کے لیے کھڑے ہونا) وغیرہ متنازعہ امور کے جواز پر ہمیں کوئی دلیل قائم کرنے کی حاجت نہیں۔ شرع سے ممانعت ثابت نہ ہونا ہی ہمارے لیے دلیل ہے، ہاں تم جو ناجائز وممنوع کہتے ہو ، تم ثبوت دو کہ خدا و رسول نے ان چیزوں کو کہاں نا جائز فرمایا ہے؟؟؟

اگر ثبوت نہ دے سکو اور ان شاء اللّٰہ تعالیٰ ہرگز نہ دے سکو گے تو اقرار کرو کہ تم نے شریعت مطہرہ پر بہتان لگایا۔

ارشادِ ربانی ہے:

”جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللّٰہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں۔

اب قرآن مجید و احادیث کریمہ سے مزید دلائل ملاحظہ کیجیے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

”رسول کی تعظیم و توقیر کرو“ ۔

تعظیم کی ایک صورت قیام یعنی کھڑے ہونا ہے۔

صحیح بخاری جلد دوم میں ہے کہ آقا ومولیٰ     نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللّٰہ عنہ کے لیے صحابہ کرام کو کھڑے ہونے کا حکم دیا۔

مشکوٰۃ جلد دوم میں ہے کہ نبی کریم جب مسجد نبوی سے گھر مبارک جانے کے لیے اُٹھتے تو سب صحابَۂ کرام تعظیم و تکریم کے طور پر کھڑے ہو جاتے اور اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک آپ اپنے حجرۂ اقدس میں داخل نہ ہو جاتے۔ معلوم ہوا کہ قیام تعظیمی سنت سے ثابت ہے۔

ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا گیا:

”اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو، اللّٰہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا، درجے بلند فرمائے گا اور اللّٰہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے“۔

صدر الافاضل فرماتے ہیں:

ذکرِ رسول کی تعظیم کے لیے کھڑے ہونا اسی میں داخل ہے۔

اہلسنت اپنے آقا ومولیٰ ﷺ  کی بارگاہِ بیکس پناہ میں محبت و تعظیم کے اظہار کے طور پر کھڑے ہو کر درود وسلام پڑھتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جا چکی کہ یہ ملائکہ وصحابہ کی سنت سے ثابت ہے۔ اس کی تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ ائمہ دین و صالحین کی بھی سنت ہے۔

علامہ علی بن برہان الدین طیبی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ:

نور مجسم کے ذکر کے وقت قیام کرنا جلیل القدر محدث امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللّٰہ علیہ (م۷۵۶ ھ) سے ثابت ہے اور اس قیام پر ان کے ہم عصر مشائخِ اسلام نے ان کی پیروی کی۔ امام سبکی کے پاس جید علماء و مشائخ کا عظیم اجتماع تھا، اس محفل میں کسی نے امام صرصری کے نعتیہ اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے، ”اگر بہترین کاتب چاندی کی تختی پر سونے کے پانی سے حضور اکرم کی تعریف لکھے پھر بھی کم ہے، بیشک عزت و شرف والے لوگ آقا و مولیٰ کا ذکرِ جمیل سن کر صف بستہ قیام کرتے ہیں یا گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جاتے ہیں“۔

Share:
keyboard_arrow_up