یہ اشعار سن کر امام سبکی اور تمام علماء و مشائخ کھڑے ہو گئے ، اس وقت بہت سُرور اور سکون حاصل ہوا۔
امام المحد ثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ (م ۱۰۵۶ ھ ) فرماتے ہیں:”اے اللّٰہ! میرا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جسے تیری بارگاہ میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں، میرے تمام اعمال میں فسادِنیت کا خدشہ رہتا ہے البتہ مجھ حقیر فقیر کا ایک عمل صرف تیری ذات پاک کی عنایت کی وجہ سے نہایت شاندار ہے اور وہ یہ ہے کہ میں محفلِ میلاد میں کھڑے ہوکرسلام پڑھتا ہوں اور نہایت عاجزی اور محبت و خلوص سے تیرے حبیب ﷺ پر دور بھیجتا ہوں ۔ اے اللّٰہ ! وہ کون سا مقام ہے جہاں میلاد مبارکہ سے زیادہ تیری برکت نازل ہوتی ہے اس لیے اے ارحم الراحمین ! مجھے کامل یقین ہے کہ میرا یہ عمل کبھی ضائع نہ جائے گا بلکہ تیری بارگاہ میں یقیناً قبول ہوگا؛ جو کوئی درود وسلام پڑھے اور اس کے وسیلے سے دعا کرے وہ کبھی مسترد نہیں ہو سکتی“۔
اب آخر میں قیام وسلام کو بدعت کہنے والے اپنے اکابرین کے پیر و مرشد حاجی امداد اللّٰہ مہاجر مکی صاحب کا فرمان بھی سن لیں۔ وہ فرماتے ہیں:
”مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل میلاد میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف ولذت پاتا ہوں“۔
انہی حاجی صاحب کے نزدیک کسی بھی جگہ محفل میلاد میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی تشریف آوری کا خیال کرنے میں شرعاً کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ آقا و مولیٰ ﷺ کا کہیں بھی قدم رنجہ فرمانا کوئی ناممکن بات نہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ”اگر احتمال تشریف آوری کیا جائے مضائقہ نہیں کیونکہ عالم خلق مقید بزمان و مکان ہے لیکن عالم امر دونوں سے پاک ہے پس قدم رنجہ فرمانا ذاتِ بابرکات کا بعید نہیں“۔
بعض کم فہم یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ” کیا تم صحابہ و تابعین کرام سے محبت تعظیم میں زیادہ ہو کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا تم وہ کرتے ہو لہٰذا یہ بدعت و حرام ہے“۔
یہ اعتراض نہایت لغو ہے کیونکہ کئی امور ایسے ہیں جنہیں صحابَۂ کرام نے یا تابعین نے اختیار کیا، اس سے قبل وہ نیک کام کسی نے نہ کیے تھے، تو کیا ان کاموں کو بدعت و حرام کہا جائے گا ؟؟؟
امام قاضی عیاض مالکی رحمہ اللّٰہ ”کتاب الشفا“ میں فرماتے ہیں:
امام مالک بن انس رضی اللّٰہ عنہ مدینہ طیبہ میں سواری پر سوار نہ ہوتے اور فرماتے: ”مجھے شرم آتی ہے کہ جس مقدس سرزمین میں آقائے دو جہاں ﷺ آرام فرما ہوں، میں اسے جانور کے سم سے روندوں۔
آپ بتائیے کیا صحابَۂ کرام مدینہ طیبہ میں سواری پر سوار نہ ہوتے تھے؟ امام مالک کا معمول تھا کہ فقہ کے مسائل تو کسی اہتمام کے بغیر سکھا دیتے لیکن علمِ حدیث سکھانے کے لیے غسل فرماتے، خوشبو لگاتے، نیا لباس پہنتے، عمامہ باندھتے، ان کے لیے دولہا کے تخت کی طرح تخت بچھایا جاتا، اسے خوشبوؤں سے معطر کیا جاتا ، پھر آپ اس پر بیٹھ کر حدیث پاک بیان کرتے۔
پوچھنے پر آپ نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ حدیثِ رسول ﷺ کی تعظیم کروں۔ اور میں حدیث بیان نہیں کرتا جب تک وضو کرکے خوب سکون و وقار کے ساتھ نہ بیٹھ جاؤں۔
فرمائیے ! امام مالک جو تبع تابعی ہیں ان سے قبل کوئی ایسی مثال پیش کی جاسکتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔
مذکورہ اعتراض کے جواب میں اعلیٰ حضرت محدث بریلوی فرماتے ہیں:
”یہ اعتراض اگر قابلِ تسلیم ہو تو تبع تابعین پر تابعین کے اعتبار سے، اور تابعین پر صحابہ کے لحاظ سے اور صحابَۂ کرام پر رسول اللّٰہ ﷺ کے اعتبار سے وارد ہوگا۔
مثلاً جو فعل حضور ﷺ، صحابہ اور تابعین نے نہ کیا اور تبع تابعین نے کیا تو تم اسے بدعت نہیں کہتے ۔ تمہاری طرح ہم کہیں گے، اس کام میں بھلائی ہوتی تو رسول الله ﷺ، صحابہ اور تابعین ضرور کرتے ، کیا تبع تابعین ان سے زیادہ دین کا اہتمام رکھتے ہیں کہ جو اُنہوں نے نہ کیا وہ یہ کریں گے۔ اسی طرح تابعین کے زمانے میں جو کچھ پیدا ہوا ، اس پر کہا جائے گا کہ یہ بہتر ہوتا تو رسول ﷺاور صحابَۂ کرام کیوں نہ کرتے، تابعین کیا ان سے بڑھ کر ہیں؟
علی هذا القياس جونئی باتیں صحابَۂ کرام نے کیں، ان میں بھی تمہاری طرح کہا جائے گا، کیا رسول اللّٰہ ﷺکو معاذ اللّٰہ ان کاموں کی خوبی معلوم نہ ہوئی یا صحابَۂ کرام کی نیک کاموں پر زیادہ توجہ تھی۔

