Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 70 of 90

معلوم ہوا کہ اس لغو اعتراض کی بنا پر عیاذ باللّٰہ عياذاً باللہ تمام صحابہ و تابعین بھی بدعتی قرار پاتے ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ کسی کام کو کرنا اور چیز ہے اور منع کرنا اور چیز ۔

حضور        نے اگر ایک کام نہ کیا اور اس کو منع بھی نہ فرمایا ، تو صحابَۂ کرام کے لیے کون سی چیز ممانعت کا باعث ہے کہ وہ اسے نہ کریں، اور اگر کوئی کام صحابہ نہ کریں تو تابعین کے لیے کون سی شرعی پابندی ہے، اور اگر وہ نہ کریں تو تبع تابعین کے لیے اسے کرنے پر کوئی پابندی نہیں اور اسی طرح اگر وہ نہ کریں تو ہمارے لیے اسے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بس یہ خیال رہے کہ وہ کام شرع کے نزدیک بُرا نہ ہو۔

اذان کے ساتھ درود وسلام پڑھنا

سوال : بعض گمراہ لوگ اذان سے قبل یا اذان کے بعد میں درود شریف پڑھنے کو بدعت و حرام بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان محدث بریلوی نے کی۔ ان کے خیال میں صرف حضرت بلال رضی اللہ عنہ والی اذان دینی چاہیے۔ اس بارے میں بھی وضاحت فرما دیجیے۔

جواب : اس سے قبل بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیئہ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی جا چکی، پھر ”الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ“ کے جواز پر بھی دلائل و براہین پیش کیے گئے۔ اب ہم پہلے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ درود شریف پڑھنا کن مواقع پر ممنوع ہے۔

فقہاء نے مندرجہ ذیل اوقات میں درود پڑھنے سے منع کیا ہے۔

خریدو فروخت کے وقت،

جماع،

رفع حاجت،

ذبح،

چھینک،

تعجب یا ٹھوکر کے وقت،

تلاوت قرآن

یا نماز کے دوران حضور کا اسم گرامی آنے پر

اور کسی بڑے آدمی کی آمد کی خبر دیتے وقت۔ ان مواقع کے علاوہ جس وقت بھی درود و سلام پڑھا جائے ، حکمِ الٰہی” صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا“ (ان پر درود و سلام بھیجو ) کی تعمیل ہوتی ہے۔

چونکہ جواز کے لیے حکمِ الٰہی موجود ہے لہٰذا ممانعت کے لیے شرعی دلیل ضروری ہے، بغیر دلیل کے کسی چیز کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ اس پر پچھلے صفحات میں تفصیل سے گفتگو کی جا چکی ہے“۔

حضور کا فرمانِ عالیشان ہے:

”جب تم مؤذن کی اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے ،پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے“۔

اس حدیثِ پاک میں درود شریف پڑھنے کا مطلق حکم ہے خواہ آہستہ پڑھا جائے یا بلند آواز سے۔ نیز درود شریف پڑھنے کا حکم مؤذن اور سامعین دونوں کے لیے ہے۔ شفا شریف اور شامی میں سرکارِ دو عالم کے ذکر کے وقت، آپ کا نام مبارک سننے اور لکھنے کے وقت اور اذان کے وقت درود وسلام پڑھنا مستحب بتایا گیا ہے۔

خود دیوبندی مکتبہ فکر کے مولوی زکریا کاندھلوی صاحب نے ”فضائلِ درود“ میں شامی کے حوالے سے لکھا کہ ” جن اوقات میں (درود) پڑھ سکتا ہو پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو“۔ پھر انہوں نے تکبیر کے وقت اور اذان کے جواب کے بعد درود پڑھنا مستحب قرار دیا۔

امام اہلسنت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے جب اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا :

”اذان کے بعد نبی کریم پر درود و سلام عرض کرنا جیسا کہ ملک عرب و مصر و شام وغیر ہا بلادِ دار الاسلام بلکہ خاص مسجد الحرام و مسجدِ اقدس مدینہ طیبہ میں مغرب کے سوا معمول ہے اور پانچ سو برس سے زیادہ گزرے کہ ائمہ و علماء اس پر تقریر و تسلیم کرتے آئے ، بیشک جائز و مقبول ہے ۔

حضور پُر نور سرورِ عالم کا ذکرِ اقدس ہر وقت ہر آن ہر مسلمان کا ایمان ،ایمان کی جان، جان کا چین، چین کا سامان۔

حضور فرماتے ہیں:

” جو کسی چیز کو دوست رکھتا ہے اس کو بہت یاد کرتا ہے ۔“

Share:
keyboard_arrow_up