پھر دلائل کے بعد فرماتے ہیں:
در مختار میں ہے کہ اذان کے بعد صلوٰۃ و سلام عرض کرنا شب دو شنبہ نماز عشاء ماہ ربیع الآخر ۷۸۱ ھ میں شروع ہوا، پھر جمعہ کے دن ،پھر دس برس بعد مغرب کے سوا سب نمازوں میں پھر دو دفعہ مغرب میں بھی، یہ ان نئی باتوں میں سے ہے جو نیک و محمود ہیں۔
امام محدث شمس الملۃ والدین سخاوی ”القول البدیع“ میں، علامہ عمر بن نجیم ”نہر الفائق شرح کنز الدقائق“ میں، پھر فاضل محقق امین الملتہ والدین شامی ”ردالمختار علی الدر المختار“ میں فرماتے ہیں:
”حق بات یہ ہے کہ یہ بدعتِ حسنہ ہے“۔ امام سخاوی رقم طراز ہیں:
”مؤذن حضرات فجر اور جمعہ کی اذانوں اور دیگر اذانوں کے بعد جو”الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللّٰہ“ پڑھتے ہیں اس کی ابتدا سلطان ناصر صلاح الدین ایوبی کے دور میں ان کے حکم سے ہوئی۔
اس سے پہلے لوگ اپنے خلفاء پر السلام علی الامام الظاہر وغیرہ کہہ کر سلام کہتے تھے جبکہ سلطان نے اس بدعت کو باطل کر کے اس کی جگہ رسول اللّٰہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام کا حکم جاری کیا، اسے اس کی جزائے خیر عطا ہو۔
امام سخاوی (متوفی ۹۰۲ھ) کے علاوہ امام شعرانی (م۹۷۳ھ) نے ”كشف الغمہ“ ، امام ابن حجر شافعی (م۸۵۲ھ) نے” فتاوی کبریٰ“، امام جلال الدین سیوطی (م ۹۱۱ھ) نے ”حسن المحاضرہ “ میں، محدث علی قاری حنفی (م۱۰۱۴ھ) نے”مرقاۃ شرح مشکوۃ“ جلد اول میں ، علامہ حلبی (م ۱۰۲۴ھ) نے ”سیرت حلبیہ “میں اور علامہ ابن عابدین شامی (م ۱۲۵۲ھ) نے ”ردالمختار“ میں اسے بدعتِ حسنہ قرار دے کر اس کی تعریف کی ہے۔
(رحمہم اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین ) گویا سات سو سال سے ائمہ دین اور جلیل القدر علماء کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ اذان کے ساتھ صلوٰۃ وسلام پڑھنا جائز و مستحب ہے، جبکہ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی ۱۲۷۲ھ میں پیدا ہوئے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ اذان کے ساتھ درود و سلام پڑھنا اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ علیہ کی ایجاد نہیں بلکہ یہ تو گذشتہ سات صدیوں سے امتِ مسلمہ کا معمول ہے ۔
لہٰذا اسے بدعتِ سیئہ کہنا ہی دراصل بدعت و گمراہی ہے۔ چونکہ سوال میں حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ کی اذان کا ذکر کیا گیا اس لیے اس حوالے سے بھی ایک حدیث پاک پیشِ خدمت ہے جس سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے۔
ابوداؤد شریف میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہ ایک خاتون سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ طیبہ میں میرا مکان بلند ترین مکانوں میں سے تھا۔ حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ اس مکان پر صبح صادق سے قبل چڑھ جاتے، جونہی صبح صادق ہوتی تو اذان سے قبل چند دعائیہ کلمات کہہ کر پھر اذان دیتے۔ وہ کلمات یہ ہیں ۔
”اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَاسْتَعِيْنُكَ عَلىٰ قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِیْنَک“۔
اے اللّٰہ ! میں تیری حمد کرتا ہوں اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں اس بات پر کہ قریش تیرے دین کو قائم کریں۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ اذان سے قبل بلند آواز سے قریش کے لیے دعا پڑھتے تھے۔ درود و سلام بھی حضور ﷺ کے لیے رحمت کی دعا ہے تو جب اذان سے قبل قریش کے لیے دعا کرنا جائز ہے تو قریش کے سردار، رسول ہاشمی ﷺ کے لیے دعا کرنا کیونکر نا جائز ہوگا ؟

