Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 72 of 90

اسمِ محمد ﷺ  سن کر انگوٹھے چومنا

سوال : اہلِ سنت اذان و اقامت میں نبی کریم کا اسم گرامی سن کر انگوٹھے چومتے ہیں، اس کی کیا دلیل ہے؟ بعض لوگ اس مسئلے میں بھی شدید مخالفت کرتے ہیں۔

جواب : اذان میں سرکار دو عالم   کا اسمِ گرامی سن کر اپنے دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز و مستحب اور باعث خیر و برکت ہے۔ اس کے جواز پر متعدد احادیث اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ نے اپنی تصنیف ”منیر العین فی حکم تقبیل الابهامین“ میں تحریر فرمائی ہیں جبکہ اس سے ممانعت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

علامہ اسماعیل حقی (م ۱۱۳۷ ھ ) رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کے جمال کو حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں انگوٹھوں کے ناخنوں میں مثلِ آئینہ ظاہر فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام  نے اپنے انگوٹھوں کو چوم کر آنکھوں پر پھیرا، پس یہ سنت ان کی اولاد میں جاری ہوئی“۔

امام ابو طالب محمد بن علی مکی رحمہ اللّٰہ اپنی کتاب ”قوت القلوب “میں ابن عیینہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ

حضور نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے دس محرم کو مسجد میں تشریف لائے اور ستون کے قریب بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے اذان میں آپ کا نام سن کر اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کو اپنی آنکھوں پر پھیرا، اور کہا:

” قُرَّةُ عَيْنِي بِكَ يَا رَسُولَ الله “

یارسول الله ! آپ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔

جب حضرت بلال رضی اللّٰہ عنہ اذان سے فارغ ہوئے تو آقا و مولی نے فرمایا:

”اے ابوبکر! جو تمہاری طرح میرا نام سن کر انگوٹھے آنکھوں پر پھیرے اور جو تم نے کہا وہ کہے، اللّٰہ تعالیٰ اس کے تمام نئے پرانے، ظاہر و باطن گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔

امام سخاوی ، امام محمد بن صالح مدنی کی تاریخ سے نقل فرماتے ہیں کہ

”انہوں نے امام مسجد مصری کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص اذان میں آقا ومولیٰ کانام مبارک سن کر درود پڑھے اور اپنی شہادت کی انگلیاں اور انگوٹھے ملا کر ان کو بوسہ دے اور آنکھوں پر پھیرے، اس کی آنکھیں کبھی نہ دکھیں گی۔

فقہ کی مشہور کتاب ”ردالمختار“ میں ہے:

”مستحب ہے کہ اذان میں پہلی بار شہادت سن کر” صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ الله “اور دوسری بار شہادت سن کر قُرَّةَ عَيْنِى بِكَ يَا رَسُولَ اللّٰہ کہے، پھر اپنے انگوٹھے چوم کر اپنی آنکھوں پر پھیرے اور یہ کہے: اَللّٰهُمَّ مَتِّعْنِي بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ تو حضور اسے اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے۔ ایسا ہی کنز العباد امام قہستانی میں اور اسی کی مثل فتاویٰ صوفیہ میں ہے“۔

اسی طرح ”کتاب الفردوس“، ” شرح نقایہ“، ”طحطاوی“ اور ”بحرالرائق“ کے ”حواشی رملی“ میں ہے اور” حاشیہ تفسیر جلالین “میں یوں ہے کہ

”ہم نے اس مسئلے پر اس لیے طویل گفتگو کی کیونکہ بعض لوگ جہالت کی وجہ سے اس مسئلے میں اختلاف کرتے ہیں حنفی علماء کے علاوہ شافعی علماء اور مالکی علماء نے بھی انگوٹھے چومنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی صحیح مرفوع حدیث نہیں ہے،

سب احادیث ضعیف ہیں لہٰذا ضعیف حدیث شرعی دلیل نہیں بن سکتی۔ یہ اعتراض فنِ حدیث سے جہالت پر مبنی ہے۔ محدثین کا یہ فرمانا کہ یہ احادیث رسول کریم   تک مرفوع ہو کر صحیح نہیں یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ احادیث موقوف صحیح ہیں کیونکہ صحیح نہ ہونے سے ضعیف ہونا لازم نہیں آتا۔ اس کے علاوہ بھی احادیث کے کئی درجے ہیں جن میں بدتر درجہ موضوع ہے جبکہ فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث بالا جماع مقبول ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up