Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 73 of 90

انگوٹھے چومنے سے متعلق حدیث موقوف صحیح ہے چنانچہ محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ کہتا ہوں جب اس حدیث کا رفع حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ تک ثابت ہے تو عمل کے لیے کافی ہے کیونکہ نبی کریم کا فرمان ہے:

”میں تم پر لازم کرتا ہوں اپنی سنت اور اپنے خلفاء راشدین کی سنت“ ۔

عاشق رسول ، ولی کامل، اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

لب پہ آ جاتا ہے جب نامِ جناب

منہ میں گھل جاتا ہے شہدِ نایاب

وجد میں ہو کے ہم اے جانِ بیتاب

اپنے لب چوم لیا کرتے ہیں

کھانے پینے پر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟

سوال: کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فاتحہ پڑھنے سے کھانا حرام ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں رہنمائی فرما ئیں۔

جواب: اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:

”مسلمان کو دنیا سے جانے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت یا کلمہ شریف اوردرودشریف کی قرات اور دوسرے اعمال صالحہ یاکھانے کپڑے وغیرہ (صدقہ کرنے کا) جو ثواب پہنچایا جاتاہے اسے عرف میں فاتحہ کہتے ہیں کیونکہ اس میں سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور اولیاء کرام کو جو ایصال ثواب کرتے ہیں اسے تعظیماً نذرو نیاز کہتے ہیں۔ عام محاورہ ہے کہ بڑوں کے حضور جو ہدیہ پیش کرتے ہیں اسے نذر کہتے ہیں۔

فاتحہ یا ایصالِ ثواب کے لئے کھانے پینے کی اشیاء کا سامنے ہونا ضروری نہیں البتہ یہ جائز اور بہتر ہے حضور نے جانور کی قربانی کر کے اس کے سامنے یہ دعا فرمائی ”اے اللّٰہ اسے میری امت کی طرف سے قبول فرما۔

کھانے سامنے رکھ کر کچھ پڑھنا اور دعائے برکت کرنا متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

غزوۂ تبوک کے دن نبی کریم نے کھانے پر برکت کی دعا فرمائی

حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا و مولیٰ  نے کھانا سامنے رکھ کر کچھ پڑھا اور دعا فرمائی۔

ایک اور حدیث میں حضور کا حلوہ پر دعائے برکت فرمانا مذکور ہے۔

ان احادیث سے ثابت ہوا کہ کھانا سامنے رکھ کر تلاوت کرنا اور دعا مانگنا بلاشبہ جائز و مستحب ہے۔ مسلم شریف میں ہے کہ جس کھانے پر اللّٰہ کا نام نہ لیا جائے اسے شیطان اپنے لئے حلال سمجھتا ہے یعنی بسم اللّٰہ پڑھ کر کھانا پینا چاہئے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا :

تو کھاؤ اس میں سے جس پر اللّٰہ کا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتیں مانتے ہو۔“

آپ بتائیے کہ فاتحہ میں کیا پڑھا جاتا ہے؟ کیا چاروں قل اور سورۂ فاتحہ پڑھنے سے حرام ہو جاتا ہے؟ حدیثِ پاک سے یہ معلوم ہوا کہ بسم اللّٰہ پڑھنے سے شیطان اس کھانے کو حلال نہیں سمجھتا اور قرآن کریم سے معلوم ہوا جس کھانے پر اللّٰہ تعالیٰ کا نام لیا جائے وہ کافر نہیں کھاتے۔

اب نتیجہ یہ نکلا کہ فاتحہ پڑھنے سے کھانے کو حرام سمجھنا اور اسے نہ کھانا کافروں اور شیطان کا طریقہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فاتحہ پڑھنے سے کھانا برکت والا ہو جاتا ہے۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اپنے” فتاویٰ کی جلد اول صفحہ 71“پر فرماتے ہیں:

”نیاز کا وہ کھانا جس کا ثواب امام حسن و امام حسین رضی اللّٰہ عنہ کو پہنچایا جائے اور اس پر فاتحہ قل اور درود شریف پڑھا جائے تو وہ کھانا برکت والا ہو جاتا ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے۔

شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہ اللّٰہ ”عوارف المعارف“ میں فرماتے ہیں:

”تلاوت کرنے سے کھانے کے اجزاء ذکر کے انوار سے معمور ہو جاتے ہیں اور کھانے میں کوئی خرابی بھی پیدا نہیں ہوتی اور ایسا طعام کھانے سے دل کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up