Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 74 of 90

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی فرماتے ہیں:

وہ کھانا جو حضرات انبیاء مرسلین علیہم الصلواۃ والتسلیم اور اولیائے کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم کی ارواح طیبہ کو نذر کیا جاتا ہے اور امیر و غریب سب کو بطور تبرک دیا جاتا ہے یہ سب کو بلا تکلف روا ہے اور باعثِ برکت ہے۔ برکت والوں کی طرف جو چیز نسبت کی جاتی ہے اس میں برکت آجاتی ہے ۔

فاتحہ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ چاروں قل شریف تلاوت کیے جائیں جس میں سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھی جائے پھر سورۂ فاتحہ تلاوت کی جائے، پھر اگر یاد ہوں تو سورہ بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات اور مزید چند آیات تلاوت کر کے درود شریف پڑھ کر یوں دعا مانگی جائے۔ ”اے اللّٰہ ان آیات اور اس طعام کو قبول فرما، ان عبادات پر جو ثواب دے وہ میرے عمل لائق نہ دے بلکہ اپنے کرم کے لائق ثواب عطا فرما۔ اور یہ ثواب ہمارے آقا ومولیٰ کی بارگاہ میں مرحمت فرما۔ اپنے حبیب کے صدقے میں یہ ثواب تمام انبیاء کرام ، صحابَۂ کرام ، اہلبیت عظام، تابعین، تبع تابعین، جمیع اولیائے کاملین خصوصاً فلاں ولی اللّٰہ مثلا حضور سید نا غوث اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی بارگاہ میں نذر پہنچا۔ پھر یہ ثواب حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک جتنے مسلمان انتقال کر گئے یاموجود ہیں یا قیامت تک ہونگے سب کو اس کا ثواب پہنچا۔

یا اللّٰہ تمام مسلمانوں کی مغفرت فرما، ہمیں مذہب مہذب مسلک حق اہلسنت و جماعت پر استقامت عطا فرما، ہمیں دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا فرما، ہمیں اپنا خوف، اپنے حبیب کی سچی محبت اور آخرت کی فکر عطا فرما، ہمارے اہل وعیال سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ آمین پھر اگر چاہیں تو مزید دعائیں مانگیں آخر میں درود شریف پڑھ کر دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر لیں۔

مسلمان بعض مواقع پر فاتحہ کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں

مثلاً: میلاد شریف، دس محرم الحرام، غوث اعظم کی گیارھویں شریف خواجہ غریب نواز کی چھٹی شریف، شب برات کا حلوہ، رجب کے کونڈے وغیرہ ان سب کی اصل ایصالِ ثواب ہے اور یہ سب جائز ہیں۔

گیارھویں شریف

سوال: گیارھویں شریف کیا ہے؟ بعض گمراہ کہتے ہیں کہ ”تم حضور اور صحابَۂ کرام کے لئے ہر ماہ ایصالِ ثواب نہیں کرتے مگر ہر ماہ گیارھویں شریف کرتے ہو۔ اس کا کیا سبب ہے؟“

جواب: حضرت غوثِ اعظم پیرانِ پیر دستگیر سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللّٰہ عنہ کے ایصال ثواب کے لئے قرآن کریم کی تلاوت، نعت خوانی، ذکرِ الہٰی اور تقسیم طعام وشیرینی پر مشتمل محفل جو عموما کسی بھی دن اور خصوصاً چاند کی گیارہ تاریخ کو منعقد ہوتی ہے اسے گیارھویں شریف کہتے ہیں۔ اس کی اصل ایصال ثواب ہے جو کہ قرآن وسنت سے ثابت ہے اس حوالے سے پہلے تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کھانے پینے کی چیزوں کی نسبت غیر ِخدا کی طرف کرنے سے وہ حرام ہوجاتی ہیں اس لئے گیارھویں شریف کا کھانا حرام ہے (معاذ اللّٰہ )

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللّٰہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی یا رسول اللّٰہ       اُم سعد کا انتقال ہو گیا اب ان کے ایصال ثواب کے لئے کونسا صدقہ بہتر ہے؟

ارشاد فرمایا: ”پانی“ ( کیونکہ اس وقت مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کو پانی کی سخت حاجت تھی ) لہذا حضرت سعد رضی اللّٰہ تعالی عنہ نے کنواں کھدوا کر فرمایا” هِذِهٖ لِاُمِّ سَعد“ یہ کنواں اُم سعد کے لئے ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up