اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی شے کو کسی فوت شدہ ہستی کی طرف منسوب کرنا نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی اس سے وہ شے حرام ہوتی ہے۔ جیسے حضرت سعد رضی اللّٰہ عنہ نے کنوئیں کو اپنی والدہ کی طرف منسوب کیا اسی طرح ہم گیارھویں شریف کو سرکار غوث اعظم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:
”بیشک ہمارے شہروں میں سیدنا غوث اعظم کی گیارھویں شریف مشہور ہے اور یہی تاریخ اہل ہند میں سے آپ کی اولاد مشائخ میں معروف ہے“عارف کامل شیخ عبدالوہاب متقی مکی قدس سرّۃ غوث الثقلین کا عرس کیا کرتے تھے ۔
شیخ امان اللّٰہ پانی پتی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ:
وہ بھی ماہ ربیع الآخر کی گیارہ تاریخ کو غوث الثقلین کا عرس کیا کرتے تھے۔
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ”
حضرت غوثِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے روضہ مبارک پر گیارھویں تاریخ کو حکمران اور اکابرین شہر وغیرہ جمع ہوتے نمازِ عصر مغرب قرآن کریم تلاوت کرتے اور حضرت غوث اعظم کی شان میں قصائد و منقبت پڑھتے، بعد مغرب سجادہ نشین مریدین و حاضرین کے درمیان بیٹھ کر انہیں ذکر بالجہر کراتے، اسی حالت میں بعض پر وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی، پھر طعام و شیرینی جو نیاز تیار ہوتی وہ تقسیم کی جاتی اور لوگ نماز عشاء ادا کر کے رخصت ہوتے“ ۔
شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ نے مرزا مظہر جانجاناں رحمہ اللّٰہ علیہ کے ملفوظات اپنی کتاب ”کلمات طیبات“ میں جمع فرمائے ہیں،مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک وسیع چبوترہ پر بہت سے اولیاء کرام حلقہ کی صورت میں مراقبہ میں ہیں جن میں خواجہ نقشبند اور جنید بغدادی رحمہما اللّٰہ بھی تشریف فرما ہیں پھر یہ حضرات سیدنا علی کرم اللّٰہ وجہہ کے استقبال کو چل دیے۔ جب حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ تشریف لائے تو ان کے ساتھ چادر اوڑھے برہنہ پاؤں ایک بزرگ بھی تھے جن کا ہاتھ تعظیم سے آپ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت اویس قرنی رضی اللّٰہ عنہ ہیں پھر ایک صاف وشفاف حجرہ مبارک ظاہر ہوا جس پر نور کی بارش ہو رہی تھی یہ تمام بزرگ اس میں داخل ہوگئے۔ میں نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ آج حضرت غوث الثقلین کا عرس یعنی گیارھویں شریف ہے اور یہ تمام بزرگ اس عرس کی تقریب میں تشریف لے گئے ہیں“ ۔
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ گیارھویں شریف اور اولیاء کرام کے اعراس مبارکہ مسلمانوں کا صدیوں سے معمول رہے ہیں خصوصاً گیارھویں شریف تو شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کے زمانے یعنی ۹۵۸ ھ تا۲ ۱۰۵ میں تمام شہروں میں مشہور ہو چکی ہیں۔ یہ اعتراض کہ ہم گیارھویں شریف کی طرح حضور ﷺ اور صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کے لئے ایصال ثواب نہیں کرتے۔یہ نہایت لغو اور جاہلانہ ہے خوب اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اہلِ سنت جب بھی کسی ولی اللّٰہ یا اپنے کسی مرحوم عزیز کے لئے بھی فاتحہ دلاتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کی بارگاہ بیکس پناہ میں ثواب کا نذرانہ پیش کرتے ہیں پھر دیگر انبیاء کرام صحابَۂ کرام اور اہل بیت اطہار کی ارواح مقدسہ کو ایصال ثواب کرتے ہیں پھر اولیاء کرام اور اپنے مرحوم عزیزوں کو ثواب پہنچاتے ہیں پچھلے سوال کے جواب میں فاتحہ کا طریقہ بیان ہوا اسے دوبارہ پڑھ لیجئے۔
یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ہم جب بھی کوئی فاتحہ کرتے ہیں وہ نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ واہلِ بیت کرام بلکہ تمام مسلمانوں کے ایصال ثواب پر مبنی ہوتی ہے۔

