Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 76 of 90

ندائے یا رسول اللّٰہ

سوال : عام مسلمان نبی کریم کو استمداد کے لیے یا محبت و عقیدت سے پکارتے ہیں اور ندائیہ درود و سلام ”الصلوة والسلام علیک یا رسول الله“ پڑھتے ہیں۔ بعض لوگ اسے شرک کہتے ہیں۔ اس کے متعلق قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی کیجیے۔

جواب : نبی کریم کو حرف ”یا“ کے ساتھ ندا کرنا اور مذکورہ درود و سلام پڑھنا نہ صرف صحابَۂ کرام کی سنت ہے بلکہ اس دور میں صحیح العقیدہ مسلمان ہونے کی علامت ہے، اسے کفر و شرک کہنے والا خود گمراہ اور بد مذہب ہے۔

رسول معظم رحمتِ عالم ﷺ    نے ایک نابینا صحابی کو قضائے حاجت کے لیے یہ دعا تعلیم فرمائی: ”اے اللّٰہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں تیرے نبی حضرت محمدﷺ    کے وسیلے سے جو کہ نبی رحمت ہیں۔ یارسول اللّٰہ ﷺ   ! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کے دربار میں اس لیے متوجہ ہوا ہوں تاکہ میری یہ حاجت پوری ہو جائے۔ یا اللّٰہ! حضور ﷺ    کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما“۔ جب اس صحابی نے یہ دعا کی جس میں ”یا رسول اللّٰہ ﷺ   “کی ندا موجود ہے، تو اس کی آنکھیں روشن ہو گئیں جیسے کہ وہ کبھی نابینا ہی نہ تھا۔

(حاکم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی)

اس دعا کا عربی متن فقیر کی کتاب”مسنون دعائیں“کے صفحہ ۸۵ پر ملاحظہ فرمائیں۔

امام بخاری نے ”ادب المفرد“ میں روایت کیا ہے کہ

حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما کا پاؤں سو گیا ، کسی نے کہا، انہیں یاد کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ نے بلند آواز سے فرمایا: یامحمداہ ﷺ    تو آپ کا پاؤں فوراً صحیح ہو گیا۔

امام نووی نے ”کتاب الاذکار“ میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کا، اور ابن اثیر نے ”تاریخ کامل“ میں حضرت بلال بن الحارث المزنی رضی اللّٰہ عنہ کا ”يا محمداه“ سے ندا کرنا روایت کیا ہے۔

نسیم الریاض شرح شفائے عیاض میں ہے کہ اہل مدینہ میں (یا محمداہ) کہنے کا رواج عام ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ عنہ صحابَۂ کرام کے ہمراہ جب مسیلمہ کذاب کے لشکر سے برسر پیکار تھے اس وقت سب کی زبان پر یہ ندا تھی ، یا محمداه (یا رسول اللہ ﷺ    مدد فرمائیے ) پھر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔

حضرت کعب بن ضمرہ رضی اللّٰہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ جب حلب کی فتح کے لیے لڑ رہے تھے تو پکارتے تھے،” یا محمد یا محمد یا نصر الله انزل “یعنی یا رسول اللّٰہ یا رسول اللّٰہ!اے اللّٰہ کی مدد نازل ہو۔ انہیں فتح حاصل ہوئی۔

ان دلائل سے واضح ہو گیا کہ یارسول اللّٰہ ﷺ    پکارنا صحابہ کرام اور تابعین سے لے کر آج تک ساری امت کا معمول رہا ہے۔ اس کو سب سے پہلے کس نے منع کیا؟ یہ بات دیوبندی مکتبہ فکر کے مولوی حسین احمد کانگریسی کے قلم سے ملاحظہ کیجیے۔ وہ لکھتے ہیں: ”وہابیہ خبیثیہ یہ صورت نہیں نکالتے اور جملہ انواع کو منع کرتے ہیں چنانچہ وہابیہ عرب کی زبان سے بارہا سنا گیا کہ الصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللّٰہ کو سخت منع کرتے ہیں اور اہلِ حرمین پر سخت نفرین اس نداء و خطاب پر کرتے ہیں اور ان کا استہزاء اڑاتے ہیں“۔

یہ امر قابلِ غور ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ    کو حرف ندا ”یا“ کے ساتھ مخاطب کر کے سلام عرض کرنا یعنی اَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِی کہنا جب نماز میں واجب ہے تو نماز کے باہر شرک کیسے ہو سکتا ہے؟

Share:
keyboard_arrow_up