Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 77 of 90

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

”یہ خطاب اس لیے ہے کہ حقیقت محمدیہ ﷺ    موجودات کے ذرے ذرے میں اور ممکنات کے ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہے پس نورِ کبریا ﷺ    ہر نمازی کی ذات میں موجود و حاضر ہیں، نمازیوں کو چاہیے کہ اس حقیقت سے آگاہ رہیں۔

امام عبدالوہاب شعرانی نے ”کتاب المیزان“ میں امام غزالی نے ”احیاء العلوم“ میں، حافظ ابن حجر نے ”فتح الباری شرح بخاری“ میں، امام عینی نے ”عمدة القاری شرح بخاری“ میں اور امام قسطلانی نے ”مواہب اللدنیہ“ میں یہی عقیدہ بیان فرمایا ہے۔(رحمہم اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین)

جانِ کا ئناتﷺ    کا ارشاد ہے:

”جو کوئی مجھ پر درود پڑھے اس کی آواز مجھے تک پہنچ جاتی ہے خواہ وہ کہیں بھی ہو“۔

دوسری جگہ فرمایا:

”جب کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے، میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں“ ۔

ایک اور ارشاد گرامی ہے:

خدا کی قسم ! مجھ پر نہ تمہارا رکوع پوشیدہ ہے اور نہ خشوع“ ( جو کہ دل کی ایک کیفیت ہے)۔

آقا و مولیٰ    کا فرمان عالیشان ہے:

”میں دنیا کو اور جو کچھ دنیا میں قیامت تک ہونے والا ہے، سب کو اس طرح دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں“۔

پس جب نبی کریم    کی حقیقت وروحانیت کائنات کے ہر ذرے میں جاری وساری ہے اور آقا ومولیٰﷺ     تمام کائنات کو اپنی مبارک ہتھیلی کی مثل ملاحظہ فرما رہے ہیں تو گویا آپ ﷺ    حاضر و ناظر ہیں اس لیے آپ ﷺ     کو دور و نزدیک کہیں سے بھی یا رسول اللّٰہ ﷺ    پکارنا بالکل جائز بلکہ آقا و مولیٰ ﷺ     سے عشق ومحبت کی علامت ہے۔

باب دہم اہلسنت کون؟

جنتی گروہ کی علامات

سوال : موجودہ دور میں بیشمار فرقے پیدا ہو چکے ہیں جن میں ہر فرقہ خود کو جنتی قرار دیتا ہے اور ایک فرقہ ان لوگوں کا بھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا تعلق کسی فرقے سے نہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ فرمائیں کہ ان میں سے جنتی گروہ کی شناخت کیسے کی جائے؟

جواب : غیب کی خبریں دینے والے آقا و مولیٰ ﷺ   کا ارشاد گرامی ہے:

”بنی اسرائیل میں بہتر (۷۲) فرقے ہوئے اور میری امت میں تہتر (۷۳) فرقے ہونگے۔ ان میں صرف ایک گروہ جنتی ہے اور باقی سب فرقے جہنم میں جائیں گے۔ صحابَۂ کرام نے عرض کیا، یا رسول اللّٰہﷺ   ! وہ جنتی گروہ کون سا ہے؟ فرمایا: جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔

نبی کریم ﷺ    نے چودہ سو سال پہلے یہ غیبی خبر دے دی تھی تاکہ اتنے سارے فرقوں میں سے جنتی گروہ کی شناخت ہوسکے۔ اس سلسلے میں سورۂ فاتحہ کی یہ آیات بھی قابلِ غور ہیں،

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

”ہم کو سیدھا راستہ چلا، راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا ، نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔

ہم ہر نماز میں اللّٰہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ” الٰہی ! ہمیں اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے پر چلا“۔ کیونکہ یہی سیدھا راستہ ہے۔ بتایئے کیا قرآن و حدیث کا راستہ سیدھا راستہ نہیں ہے؟

یقیناً قرآن و حدیث کا راستہ ہی سیدھا راستہ ہے لیکن رب کریم خوب جانتا ہے کہ گمراہ لوگ قرآن تلاوت کریں گے مگر بات اپنے مطلب کی کریں گے اور ترجمہ وتفسیر میں اپنے فاسد نظریات داخل کر دیں گے۔

Share:
keyboard_arrow_up