Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 78 of 90

یونہی حدیث پڑھیں گے مگر اس کا خود ساختہ مفہوم بیان کر کے مسلمانوں کو دھوکا دیں گے۔ اس لیے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے انعام یافتہ بندوں کے راستے کو معیار قرار دے دیا تاکہ جو قرآن و حدیث کا عالم نہ ہو وہ بھی جان لے کہ صحابَۂ کرام و اولیائے کاملین کا راستہ ہی صراط مستقیم ہے۔

اب آپ دیکھ لیجیے کہ صحابَۂ کرام حضور ا کر م ﷺ   کی کیسی تعظیم و توقیر کرتے، آقا و مولیٰ ﷺ    کی بارگاہ میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے فریاد کرتے ، ان کی محبت کو ایمان کی جان سمجھتے، بارگاہِ الہٰی میں حاجت روائی کے لیے انہیں وسیلہ بناتے۔ (ان عنوانات پر متعدد احادیثِ مبارکہ فقیر کی کتاب ”ضیاء الحدیث“ باب اول ایمانیات میں ملاحظہ فرمائیں)۔

اسی طرح آپ غور فرمائیے کہ حضرت غوث اعظم قدس سرہ کا تعلق کس گروہ سے ہے، داتا گنج بخش ، خواجہ غریب نواز، مجدد الف ثانی، بابا فرید گنج شکر اور دیگر اولیاء کرام رحمہم اللّٰہ تعالیٰ کا تعلق کس گروہ سے ہے؟ الحمد الله! اہلسنت و جماعت ہی وہ گروہ ہے جو صحابَۂ کرام کے عقائد و افکار کا پیروکار ہے اور اسی گروہ میں تمام اولیاء کرام ظاہر ہوئے ہیں اور یہی جنتی گروہ ہے۔ اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ احادیثِ مبارکہ میں جنتی گروہ کی مزید کیا علامات بیان ہوئی ہیں ؟

پہلی علامت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کا ایک گروہ ہر دور میں ضرور حق پر رہے گا۔

سرکارِ دو عالم ﷺ   نے فرمایا:

”میری امت کا ایک طبقہ دین پر قائم رہے گا، جو ان کی مخالفت کرے گا وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔

حبیب کبریا، احمد مختار ﷺ   کا ارشادِ گرامی ہے:

”یقیناً اللّٰہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر متفق نہ ہونے دے گا، جماعت پر اللّٰہ کا دست کرم ہے اور جو جماعت سے الگ رہا وہ الگ ہی دوزخ میں جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جنتی ہونے کے دعویدار فرقوں نے کب جنم لیا ؟

صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ    نے دعا مانگی:

”اے اللّٰہ ! ہمیں ہمارے شام میں برکت دے، اے اللّٰہ ! ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے“۔ بعض لوگوں نے عرض کی ، نجد کے لیے بھی دعا کریں۔ آقا و مولیٰ ﷺ    نے پھر شام اور یمن کے لیے دعا فرمائی لوگوں نے پھر نجد کے لیے دعا کی درخواست کی، مگر آپ نے پھر شام اور یمن کے لیے دعا فرمائی۔ تیسری بار لوگوں کےعرض کرنے پر فرمایا: ” وہاں زلزلے اور فتنے ہونگے اور وہاں سے شیطان کا سینگ یعنی شیطانی گروہ نکلے گا ۔“

اگر نجد کے علاقے سے کئی فرقے نمودار ہوتے تو شاید لوگ شیطانی گروہ کو پہچانے میں غلطی کر جاتے لیکن خدا کا کرنا دیکھیے کہ وہاں ایک ہی فرقہ پیدا ہوا۔ بارھویں صدی ہجری میں نجد میں شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی نے ایک نئے دین کی بنیاد رکھی، اس نے اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر و مشرک قرار دیا اور ان کا قتلِ عام کیا۔ اس وقت علماء حق میں سے اس کے سگے بھائی شیخ سلیمان بن عبدالوہاب نے اسکا سخت رد کیا۔ وہ اپنی کتاب ”الصواعق الالہیہ“ کے صفحہ ۴۳ پر لکھتے ہیں:

رسولِ معظم ﷺ    کے بعد سرزمین نجد میں جو پہلا فتنہ واقع ہوا وہ شیخ نجدی کا فتنہ ہے جس نے مسلمانوں کے درمیان صدیوں سے رائج معمولات کو کفر اور مسلمانوں کو کافر بنا دیا بلکہ شیخ نجدی نے ان لوگوں کو بھی کافر بنا دیا جو ان مسلمانوں کو کافر نہ کہے۔ حالانکہ مکہ، مدینہ اور یمن کے علاقوں میں صدیوں سے یہ معمولات رائج ہیں بلکہ ہم کو تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اولیاء کا وسیلہ، ان کے مزارات سے توسل و استمداد اور اولیاء اللّٰہ کو پکارنا یہ تمام امور دنیا میں سب سے زیادہ یمن اور حرمین شریفین میں کیے جاتے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up