شیخ سلیمان نے اہلسنت کی حقانیت کی ایک دلیل یہ دی تھی کہ صحیح بخاری میں حضرت معاویہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی حضورﷺ کا ارشاد ہے:
”اللّٰہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور یہ امت ہمیشہ صحیح دین پر قائم رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
اس حدیث میں آقا و مولیٰ ﷺ نے قیامت تک امت کے دین پر قائم رہنے کی خبر دی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جن امور کو تم کفر بتاتے ہو وہ ابتدائے اسلام سے لے کر آج تک تمام دنیائے اسلام میں مروج اور معمول ہیں۔ پس اگر اولیاء اللّٰہ کے مزارات بڑے بڑے بت ہوتے اور ان سے استمداد واستغاثہ کرنے والے کافر ہوتے تو تمام امت صحیح دین پر قائم نہ ہوتی بلکہ ساری امت کا فر قرار پاتی (جبکہ یہ حدیث پاک تمہارے اس باطل نظریے کی تردید کرتی ہے)۔
شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے پیروکار وہابی کہلاتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں وہابیت کی ایک شاخ نے میاں نذیر حسین دہلوی کی قیادت میں جنم لیا جو تقلید کے منکر تھے۔ انگریز حکومت سے اپنے تعلق کے بارے میں اسی فرقہ کا ترجمان رسالہ لکھتا ہے کہ: لارڈ ڈفرن، گورنر جنرل اور وائسرائے ہند کو دیے گئے سپاسنامے میں قائد اہلِحدیث میاں نذیر حسین دہلوی، محمد حسین بٹالوی وکیل اہلحدیث ہند کے علاوہ اہلحدیث کے پانچ بڑے پیشواؤں کے نام شامل ہیں۔
غیر مقلدوں کے پیشوا نواب صدیق حسن بھوپالی نے اس وقت بھی اہلسنت کو انگریزوں کا بدخواہ اور دشمن قرار دیا۔ انہوں نے لکھا:”اگر کوئی بدخواہ بداندیش سلطنت برٹش کا ہوگا تو وہی شخص ہوگا جو آزادی، مذہب (یعنی غیر مقلد ہونے ) کو نا پسند کرتا ہے اور ایک مذہب خاص پر جو باپ دادوں کے وقت سے چلا آتا ہے، جما ہوا ہے۔
اس نمک حلالی پر انگریز حکومت نے پانچ اہلحدیث مولویوں کو انٹس العلماء اور دو مولویوں کو خان بہادر کے القابات سے نوازا۔
صحابَۂ کرام، تابعین و صالحین کے ساتھ اس فرقہ کے ناروا سلوک کا حال انہیں کے پیشوا نواب وحید الزماں کی زبانی ملاحظہ ہو۔ وہ لکھتے ہیں :
” غیر مقلدوں کا گروہ جو اپنے آپ کو اہلحدیث کہتے ہیں انہوں نے ایسی آزادی اختیار کر رکھی ہے کہ مسائل اجماعی کی پرواہ نہیں کرتے، نہ سلف صالحین اور صحابہ اور تابعین کی۔ اور قرآن کی تفسیر صرف لغت سے اپنی من مانی کر لیتے ہیں، حدیث شریف میں جو تفسیر آچکی اس کو بھی نہیں سنتے۔
برصغیر میں وہابیت کی دوسری شاخ مولوی اسماعیل دہلوی نے قائم کی۔ انہوں نے شیخ نجدی کی”کتاب التوحید“کا چربہ اردو میں ”تقویۃ الایمان“ کے نام سے شائع کیا۔
ان کے علمی مقام کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ان کے چچا شاہ عبد القادر محدث دہلوی نے ان کے متعلق فرمایا:
”ہم تو سمجھے تھے کہ اسماعیل عالم ہوگیا مگر وہ تو ایک حدیث کے معنی بھی نہ سمجھا۔
انگریزوں کی نوازشات سے متاثر ہوکر مولوی اسماعیل دہلوی نے سر عام فتویٰ دیا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا کسی طرح درست نہیں بلکہ خلافِ مذہب ہے۔
پاک وہند میں وہابیت کی تیسری شاخ دیو بند ( جو کہ حنفی ہونے کی دعویدار ہے)، اس کی ابتدا بھی انگریز حکومت کی خاص نوازشوں سے ہوئی ۔ اس کا ذکر خود دیوبندی اکابرین نے اپنی کتب میں کیا ہے؛ مولوی شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:
”سنا گیا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی کو انگریز حکومت کی جانب سے چھ سو روپے ماہوار دیے جاتے تھے۔

