نیز الیاس دہلوی کی تبلیغی جماعت کو ابتدا میں انگریز حکومت کی جانب سے اسے کچھ روپیہ ملتا تھا۔
دیوبند کے مفتی اعظم مولوی رشید گنگوہی پر بعض لوگوں نے جنگِ آزادی میں شرکت کا الزام لگایا تو مولوی صاحب نہایت مطمئن رہے، بقول ان کے سوانح نگار:
”آپ کوہِ استقلال بنے ہوئے خدا کے حکم پر راضی تھے اور سمجھتے تھے کہ میں جب حقیقت میں سرکار (انگریز) کا فرمانبردار رہا ہوں تو جھوٹے الزام سے میرا بال بھی بیکا نہ ہوگا اور اگر مارا بھی گیا تو سرکار (انگریز) مالک ہے اسے ختیار ہے جو چاہے کرے ۔
دیوبندی مکتبہ فکر کی عمارت بھی شیخ نجدی کے توہینِ رسالت پر مبنی باطل عقائد کی بنیادوں پر تعمیر ہوئی ۔ شیخ نجدی کے گستاخانہ نظریات کی تعریف میں گنگوہی صاحب لکھتے ہیں،” محمد بن عبدالوہاب کے مقتدیوں کو وہابی کہتے ہیں، ان کے عقائد عمدہ تھے اور مذہب ان کا حنبلی تھا۔
دیو بندی فرقے کی ابتدا کے بارے میں دارلعلوم دیوبند کے استاذ التفسیر مولوی انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں:
”میرے نزدیک دیو بندیت خالص ولی اللہٰی فکر بھی نہیں اور نہ کسی خانوادہ کی لگی بندھی فکر دولت و متاع ہے۔ میرا یقین ہے کہ اکابر دیوبند جن کی ابتدا میرے خیال میں سیدنا الامام مولانا قاسم صاحب اور فقیہ اکبر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے ہے. دیو بندیت کی ابتدا حضرت شاہ ولی اللّٰہ رحمۃ اللہ علیہ سے کرنے کی بجائے مذکورہ بالا دو عظیم انسانوں سے کرتا ہوں۔
ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ دیوبندی فرقے کی ابتدا مولوی قاسم نانوتوی اور مولوی رشید گنگوہی سے ہوئی یعنی یہ فرقہ بھی تقریباً سوا سو سال پہلے وجود میں آیا۔ گویا غیر مقلد (الحدیث) اور دیوبندی مکاتیب فکر کا آغاز انگریز دور میں ہوا اور یہ دونوں شیخ نجدی کے باطل نظریات سے تعلق رکھتے ہیں۔
اکابرین دیوبند کے کفریہ عقائد کی تفصیل جاننے کے لیے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان محدث بریلوی رحمتہ اللّٰہ علیہ کی کتاب ”حسام الحرمین“ (جو اُس وقت کے علمائے حرمین کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے) اور علامہ سید احمد سعیدشاہ کا ظمی قدس سرہ کی تصنیف ”الحق المبین“ کا مطالعہ فرمائیں۔ موجودہ صدی کے چوتھے عشرے میں جناب مودودی صاحب نے غیر مقلدین ہی کی طرز پر ”جماعت اسلامی“ کے نام سے ایک فرقے کی بنیاد رکھی اور شیخ نجدی کو مجدد اور شیخ الاسلام قرار دیا، اس گروہ کو وہابیت کی جدید شاخ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
مودودی صاحب کے قلم کی زد سے بھی انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام کی عصمت و عظمت محفوظ نہ رہی، اس کی تفصیل جاننے کے لیے علامہ ارشد القادری مدظلہ العالی کی تصنیف ”جماعت اسلامی“ کامطالعہ فرمائیں۔
اب ہم اہلسنت و جماعت کا ذکر کرتے ہیں جن کے عقائد قرآن وحدیث اور اکابر ائمہ دین سے ثابت اور منقول ہیں اور کوئی ایسا عقیدہ پیش نہیں کیا جا سکتا جو مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی ایجاد ہو، جن کی نسبت سے آج مخالفین، ہم اہلسنت کو ”بریلوی“ کہتے ہیں۔
خود غیر مقلد مولوی احسان الٰہی ظہیر نے یہ اقرار کیا کہ یہ جماعت اپنی پیدائش اور نام کے لحاظ سے نئی ہے لیکن نظریات اور عقائد کے اعتبار سے قدیم ہے۔
ایک اور غیر مقلد مولوی ابویحیٰ امام خان نوشہروی نے لکھا:
”یہ جماعت ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی تقلید کی مدعی ہے مگر دیوبندی مقلدین انہیں بریلوی کہتے ہیں۔
مشہور مؤرخ سلیمان ندوی لکھتے ہیں:
”تیسرا فریق وہ تھا جو شدت کے ساتھ اپنی روش پر قائم رہا اور اپنے آپ کو اہلِ سنت کہتا رہا۔ اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے ۔

