Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 81 of 90

ان اقتباسات سے ثابت ہو گیا کہ اعلیٰ حضرت نے انہی افکار و معمولات کی حمایت واشاعت کی جو امتِ مسلمہ میں صدیوں سے رائج تھے جیسے انبیاء اور اولیاء کا وسیلہ، محبوبانِ خدا سے مدد مانگنا اور اولیاء اللّٰہ کو پکارنا وغیرہ جنہیں مخالفین شرک قرار دیتے ہیں۔

ان معمولات کے ہر دور میں مروج ہونے کے متعلق شیخ سلیمان کی تحریری گواہی اوپر نقل کی جاچکی ہے۔

محدث علی قاری علیہ رحمۃ الباری فرماتے ہیں:

جس راہ پر نبی کریم      اور ان کے صحابَۂ کرام ہیں صرف وہی راہ چلنے والا گروہ جنتی ہے اور وہ اہلسنت و جماعت ہی ہے اور اس گروہ میں فقہاء کرام مثلاً ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل)، محدثین کرام اور متکلمین اشاعرہ اور ماتریدیہ (رحمہم اللّٰہ تعالیٰ ) ہیں، ان کے مذاہب بدعت سے خالی ہیں۔

دوسری جگہ رقمطراز ہیں:

پس اہل سنت و جماعت کے جنتی گروہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔

قبل ازیں جنتی گروہ کی پہلی علامت حدیث شریف کے حوالے سے یہ بیان کی گئی کہ جنتی گروہ کے عقائد آقا و مولیٰ اور صحابَۂ کرام کے زمانَۂ اقدس سے اب تک متصل چلے آ رہے ہوں۔ اس کے متعلق تفصیلی گفتگو ہوئی اور موجودہ دور کے چند فرقوں کے متعلق انہی کے اکابرین کی کتب سے یہ ثابت کیا گیا کہ وہ سب انگریز دور کی پیداوار ہیں۔جنتی گروہ کی دوسری علامت اس کا سوادِ اعظم یعنی بڑا گروہ ہونا ہے۔

سرکارِ دو عالم کا فرمان عالیشان ہے: 

بڑے گروہ کی پیروی کرو کیونکہ جو اس سے الگ رہا وہ الگ ہی آگ میں جائے گا“۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا:

”بہتر (۷۲) فرقے جہنمی اور ایک جنتی ہے اور وہ بڑا گروہ ہے“۔

مختارِ کل ختم الرسل ﷺ  کا ارشاد ہے:؎

”شیطان انسان کے لیے بھیڑیا ہے جیسے بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی بکری کا شکار کرتا ہے (ایسے ہی شیطان انسان کا شکار کرتا ہے)، لہٰذا تم گھاٹیوں سے بچو اور (اہلسنت کی) جماعت اور عام مسلمانوں کے ساتھ رہو۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جنتی گروہ مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت ہے اور جو اس بڑی جماعت سے الگ رہا وہ شیطان کا شکار ہو کر جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔

علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی شافعی (۱۳۰۴ھ) فرماتے ہیں کہ ”

ایک قبیلہ کا رئیس شیخ نجدی سے ملنے آیا اور کہنے لگا: اگر تمہارا قابل اعتماد خادم تمہیں یہ خبر دے کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک بڑا لشکر تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے اور تم ایک ہزار آدمیوں کو اس بات کی تصدیق کے لیے روانہ کرو اور وہ تمہیں تحقیق کر کے یہ بتائیں کہ وہاں کوئی لشکر نہیں ہے تو تم اس ایک آدمی کی تصدیق کرو گے یا ان ہزار آدمیوں کی ؟ شیخ نجدی نے کہا: میں ان ہزار آدمیوں کی تصدیق کروں گا۔ اس رئیس نے کہا: اسی طرح تمام مسلمان عوام اور علماء، زندہ اور فوت شدہ اپنی کتابوں میں تمہاری دعوت، تمہاری تحریک اور تمہارے عقائد کی تردید کرتے رہے ہیں پس ہم ان تمام کی تصدیق کریں یا صرف ایک تمہاری؟ شیخ نجدی کوئی جواب نہ دے سکا۔

ایک اور شخص نے سوال کیا: جس دین کو تم لے کر آئے ہو یہ پہلے اسلام سے متصل ہے یا منفصل؟

شیخ نجدی نے جواب دیا،چھے سو (۶۰۰) سال تک یہ ساری امت کافر و مشرک تھی۔ اس نے کہا: پھر تو تمہارا دین منفصل ہے۔ یہ بتاؤ کہ تم نے دین کس سے حاصل کیا؟ نجدی بولا: وحی الہام سے، جیسے حضرت خضر پر وحی الہام ہوتی تھی۔ اس شخص نے جواب دیا: اگر وحی الہام کا دروازہ کھلا ہوا ہے تو پھر تمہاری کیا خصوصیت ہے؟ ہر شخص ایک نیا دین لے کر اٹھ سکتا ہے اور وہ بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے یہ دین وحی الہام سے حاصل ہوا ہے۔ اس پر شیخ نجدی لاجواب ہو گیا۔

Share:
keyboard_arrow_up