Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 82 of 90

اہل سنت کے سوادِ اعظم یعنی بڑا گروہ ہونے کے متعلق نواب صدیق حسن بھوپالی غیر مقلد لکھتے ہیں،

”ہند میں اکثر حنفی، بعض شیعہ اور کمتر اہل حدیث ہیں“۔

ایک اور غیر مقلد مولوی احسان الہٰی ظہیر نے اس حقیقت کا اعتراف یوں کیا ہے: ”ابتدا میں میرا گمان تھا کہ یہ فرقہ (اہلسنت بریلوی) پاک و ہند سے باہر موجود نہیں ہوگا مگر یہ گمان زیادہ دیر قائم نہیں رہا، میں نے یہی عقائد مشرق کے آخری حصے سے مغرب کے آخری حصے تک اور افریقہ سے ایشیا تک اسلامی ممالک میں دیکھے“ ۔

مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ تمام اولیاء کرام اہلسنت و جماعت ہی میں گزرے ہیں نیز یہی وہ جماعت ہے جسے ہر دور میں سوادِ اعظم ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ اولیاء کرام سے مدد مانگنے کے منکرین تو شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ کے دور میں پیدا ہوئے جیسا کہ پہلے ایک سوال کے جواب میں مذکور ہوا۔

آقا ومولیٰ کا ارشاد ہے: ”بیشک میری امت گمراہی پر ہرگز جمع نہ ہوگی، پس جب تم اختلاف دیکھو تو تم پر بڑی جماعت کی پیروی لازم ہے“۔

سرورِ کائنات فخر موجودات کا فرمانِ عالیشان ہے:

”قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو مجھ پر زیادہ درود پڑھے گا“ ۔

ایک اور حدیث شریف میں ہے:

جس کو درود پڑھنا یاد نہ رہا اس نے جنت کا راستہ بھلا دیا۔

ان احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں جلیل القدر محدث امام شمس الدین محمد بن عبدالرحمٰن سخاوی رحمہ اللّٰہ (م ۹۰۲ ھ ) نے نویں صدی ہجری میں اہلسنت و جماعت کی ایک اہم نشانی بیان کی۔ آپ فرماتے ہیں:” اہلسنت کی علامت یہ ہے کہ وہ کثرت سے رسول اللّٰہ    پر درود پڑھتے ہیں“۔

اب ایک طرف وہ خوش نصیب ہیں جو بارگاہِ رسالت مآب میں درود و سلام کی کثرت کو ایمان کی جان سمجھتے ہیں، خلوت میں، جلوت میں، تقریروں میں، دعاؤں میں، جلسوں میں ، محفلوں میں، ہلکی آواز میں، بلند آواز میں، اذان کے ساتھ بھی ، جمعہ کے بعد بھی الغرض ہر طرح سے درود وسلام کو اپنے اعمالِ صالحہ کی زینت بنائے ہوئے ہیں۔

اور دوسری طرف وہ ہیں جو فتویٰ دیتے ہیں کہ درود و سلام پڑھنا اذان سے پہلے بھی بدعت و حرام ہے، نمازِ جمعہ کے بعد بھی بدعت و حرام ہے، بلند آواز سے پڑھنا بھی بدعت و حرام ہے، یہ درود وسلام شرک ہے اور یہ بدعت ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہاں تک کہ درودوسلام رکوانے کی ناپاک کوشش میں مساجد میں لڑائی جھگڑے بر پا کر دیتے ہیں اور اس نا پاک حرکت کوعین تو حید گردانتے ہیں۔ انصاف سے کہیے کیا ایسے لوگ اہلِ سنت ہو سکتے ہیں؟ واللّٰہ ہرگز نہیں۔ درودوسلام کو شرک و بدعت سمجھنے اور رکوانے کی شرانگیز بدعتِ سیئہ کا بانی امام الوہابیہ شیخ نجدی ہے۔

علامہ سید احمد بن زینی دحلان مکی رحمہ اللّٰہ رقمطراز ہیں:

”ابن عبدالوہاب درود پڑھنے سے منع کرتا تھا اور سن کر ناراض ہوتا تھا۔ جو درود پڑھتا یہ اُسے سخت سزا دیتا، یہاں تک کہ ایک نابینا صالح شخص جو خوش الحان مؤذن تھا ، اس کو بعد اذان مینارے پر درود پڑھنے سے منع کیا۔ وہ نہ مانا اور اس نے درود پڑھا تو اس کو قتل کر دیا۔

شیخ نجدی کہتا تھا کہ زانیہ کے گھر آلات موسیقی کا گناہ مینارے پر درود پڑھنے سے کم ہے (معاذ اللّٰہ ) نیز اس نے دلائل الخیرات اور درود و سلام کی دوسری کتابوں کو جلا دیا۔

مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداء تیرے

نہ مٹا ہے، نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا

Share:
keyboard_arrow_up