امام المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
”دینِ اسلام میں سوادِ اعظم سے مراد اہلسنت و جماعت ہے۔
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللّٰہ اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:
اہلسنت و جماعت کے مطابق اپنے عقائد کو رکھنا ضروری ہے کیونکہ قیامت کے دن اسی گروہ کو نجات حاصل ہوگی، اور اگر ان کے عقائد سے مخالفت ہوئی تو پھر خطرہ ہی خطرہ ہے اور یہ حقیقت صحیح کشف اور صریح الہام سے یقیناً ثابت ہوچکی ہے اور اس کے حق ہونے میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہے“۔
اعلیٰ حضرت محدث بریلوی قدس سرہ نے اس مضمون کو ایک شعر میں سمو دیا ہے؟
بے عذاب و عتاب و حساب و کتاب
تا اَبد اہل سنت پہ لاکھوں سلام
شعائرِ اہلِ سنت کی پابندی کیوں؟
سوال: بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اہلِ سنت محفلِ میلاد النبی ﷺ اور گیارھویں شریف کرنے ، کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھنے اور حضور ﷺ کا اسمِ گرامی سن کر انگوٹھے چومنے کو واجب سمجھتے ہیں اس لیے ان افعال کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔ اس الزام کی کیا حقیقت ہے؟
جواب : پہلے تو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ اہلِ سنت مذکورہ افعال کو ہرگز فرض یا واجب نہیں سمجھتے بلکہ انہیں مستحب و مستحسن جان کر ان کی پابندی کرتے ہیں۔
اب رہا یہ سوال کہ ان مستحب امور کی پابندی کیوں کی جاتی ہے تو جواباً عرض ہے کہ مستحب افعال کی پابندی اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول کے نزدیک پسندیدہ ہے اس لیے ہم ان مستحب کاموں کی پابندی کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں قرآن کریم سے راہنمائی لیجیے۔
ارشاد ہوا:
”اور راہب بننا، تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی، ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی، ہاں یہ بدعت انہوں نے اللّٰہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی، پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا، تو ان کے ایمان والوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا ، اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں“۔
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے اس نیکی کو نہ نباہا یعنی اس کی پابندی نہ کی انہوں نے بُرا کیا۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ مستحب کاموں کو پابندی سے کرنا رب تعالیٰ کو پسند ہے۔
آقا و مولیٰ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے:
اللّٰہ تعالیٰ کو وہ عمل محبوب ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگر چہ تھوڑا ہو۔
حضور ﷺکا ایک اور ارشاد گرامی ہے:
”جو اشراق کی دو رکعت کی پابندی کرے اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں“ ۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا چاشت کی آٹھ رکعات پڑھتیں پھر فرماتیں: ”اگر میرے ماں باپ اٹھا بھی دیے جائیں تو میں یہ نفل نہ چھوڑوں“ ۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نفل یا مستحب کی پابندی کرنا اللّٰہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کو پسند ہے۔
ہم روزانہ تین وقت کھانا کھاتے ہیں، ہر جمعہ کو غسل کرتے ہیں، عید پر نئے کپڑے سلواتے ہیں، مدارس میں سالانہ امتحان ہوتے ہیں، سالانہ جلسے ہوتے ہیں، رمضان میں تعطیلات ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام امور کی پابندی سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہم انہیں فرض یا واجب سمجھتے ہیں اسی طرح اہلِ سنت کے مذکورہ مستحب امور کی پابندی کرنے سے بھی ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ انہیں واجب سمجھتے ہیں۔
اس ضمن میں ایک اور نہایت اہم بات ذہن نشین رکھنی ضروری ہے اور وہ یہ کہ ہر دور میں ارکانِ اسلام کے علاوہ اہلِ ایمان کی مختلف علامات رہی ہیں اور حسب زمانہ کافروں اور بدمذہبوں کی علامات اور شعائر سے بچنا بھی اہلِ ایمان کے لیے لازم رہا ہے۔
ابتدائے اسلام میں محض کلمہ پڑھنا ہی مسلمانوں کی پہچان تھی پھر جب منافق پیدا ہوئے تو قرآن نے ان کی علامات بیان فرمادیں۔
اس حوالے سے سورۂ بقرہ کا دوسرا رکوع اور سورۂ منافقون ملاحظہ کیجیے۔
پھر جب دیگر بد مذہب پیدا ہوئے تو غیب بتانے والے آقا ومولیٰ ﷺ نے ان اہلِ بدعت مثلاً خوارج، قدریہ وغیرہ کی علامات بیان فرما دیں جن کی وجہ سے صحابہ کرام نے گمراہ لوگوں کو شناخت کیا بلکہ بخاری شریف میں ہے کہ” خوارج کی نشانیوں والے ایک شخص کو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ نے قتل کیا“۔

