Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 84 of 90

شرح” فقہ اکبر“ میں محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ”

امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ سے پوچھا گیا : سنی کی پہچان کیا ہے؟ تو فرمایا: ”حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللّٰہ عنہما سے محبت کرنا، حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہما کو افضل جاننا اور چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا۔

مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ سے جب اہلسنت کی پہچان پوچھی گئی تو انہوں نے بھی یہی علامات ارشاد فرما ئیں۔

درمختار باب المیاہ میں ہے کہ حوض سے وضو کرنا افضل ہے کیونکہ معتزلہ اسے نا جائز کہتے ہیں لہٰذا ہم حوض سے وضو کر کے انہیں جلاتے ہیں۔

غور فرمائیے کہ حوض سے وضو کرنا اور چمڑے کے موزوں پر مسح کرنا فرض یا واجب نہیں ہے لیکن چونکہ اس زمانے میں ان کے منکر پیدا ہو گئے تھے اس لیے ان کاموں کو اہلسنت کی پہچان قرار دیا گیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض جائز کام بدمذہبوں کی مخالفت کی وجہ سے افضل اور اہم ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح محفلِ میلاد، گیارھویں شریف، کھڑے ہو کر درود و سلام پڑھنا اور حضور کا اسم گرامی سن کر انگوٹھے چومنا وغیرہ یہ سب افعال فرض یا واجب نہیں ہیں لیکن چونکہ فی زمانہ ان مستحب کاموں کے منکر پیدا ہو گئے ہیںجو نبی کریماور محبوبان خدا کی عظمت وشان سے عناد رکھتے ہیں اس لیے یہ مستحب امور صحیح العقیدہ اہلسنت ہونے کی علامت ہیں۔

باب یاز دہم تقلید اور فقہ حنفی تقلید کیوں ضروری ہے؟

سوال : تقلید کے کیا معنی ہیں؟ صحابَۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم کس کی تقلید کرتے تھے؟ یہ بھی ارشاد فرمائیے کہ تقلید کیوں ضروری ہے؟

جواب : تقلید کے لغوی معنیٰ ہیں” گردن میں پٹا ڈالنا“ اور اصطلاحی معنیٰ ہیں: ”دلیل جانے بغیر کسی کے قول و فعل کو صحیح سمجھتے ہوئے اس کی پیروی کرنا“۔ انسان زندگی کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی کی پیروی کرتا ہے۔ پرائمری تعلیم کے حصول سے لے کر کسی بھی پیشہ یا ہنر کے درجہ کمال کو پہنچنے تک ہر کوئی اپنے اساتذہ یا اس ہنر کے ماہرین کی تقلید کرنے پر مجبور ہے۔

علم دین کا معاملہ تو اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ہر شخص یہ اہلیت نہیں رکھتا کہ وہ قرآن وحدیث سے خود مسائل اخذ کرے کیونکہ اس کے لیے صرف عربی جاننا کافی نہیں بلکہ فقیہ و مجتہد کی شرائط کا جامع ہونا ضروری ہے۔ کسی فقیہ کے قول پر شرعی دلیل کے تحت عمل کرنا تقلید شرعی ہے جس کا فرض ہونا اس آیت کریمہ سے ثابت ہے۔

ارشاد ہوا:

”اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر شخص پر عالم وفقیہ بننا ضروری نہیں لہٰذا غیر مجتہد یا غیر عالم کو مجتہد یا عالم کی تقلید کرنی چاہیے۔

دوسری جگہ فرمایا:

”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللّٰہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں سے حکم والے ہوں“ ۔

 ”دارمی“ باب الاقتداء میں ہے:”اولی الامر سے مراد علماء اور فقہاء ہیں ۔ امام ابوبکر جصاص رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:

”اولی الامر“ سے مسلمان حاکم یا فقہاء یا دونوں مراد ہیں۔

امام رازی رحمہ اللّٰہ کے نزدیک بھی اس سے مراد علماء لینا اولیٰ ہے۔

ثابت ہوا کہ اس آیت میں ایمان والوں کو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا نیز ان علماء وفقہاء کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کلام کے شارح ہیں، اسی اطاعت کا نام تقلید ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up