Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 85 of 90

صحابَۂ کرام براہِ راست نبی کریم ﷺ    سے دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے اس لیے انہیں کسی کی تقلید کی ضرورت نہیں تھی۔ آقا و مولیٰ ﷺ    کے ظاہری وصال کے بعد صحابَۂ کرام اور تابعین بھی اپنے درمیان موجود زیادہ صاحبِ علم صحابی کی تقلید کیا کرتے۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کے بارے میں فرماتے تھے:

”جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہیں، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو ۔

یہی تقلیدِ شخصی ہے جو دور صحابہ میں بھی موجود تھی۔”

بخاری شریف“ میں حضرت عکرمہ رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ اہلِ مدینہ نے حضرت عبداللّٰہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما کے قول پر حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ کی تقلید کو ترجیح دی۔اسی کا نام شخصی  تقلید ہے۔

شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

”صحابَۂ کرام شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک وہاں کا پیشوا بن گیا۔ مسائل پیش آنے پر لوگوں نے فتوے پوچھنا شروع کیے تو ہر صحابی نے اپنے حافظے یا استنباط سے جواب دیا یا پھر اپنی رائے سے اجتہاد کیا۔

آقا و مولیٰ نے حضرت معاذ رضی اللّٰہ عنہ کو یمن کا حاکم بنایا تو دریافت فرمایا، ”اگر تمہیں کوئی مسئلہ قرآن وسنت میں نہ ملے تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ عرض کی، میں اجتہاد کروں گا۔ ارشاد فرمایا: ” اللّٰہ کا شکر ہے جس نے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس سے اللّٰہ تعالیٰ کا رسول راضی ہے۔“

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ ”اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جو قرآن و سنت میں نہ ملے اور نہ ہی اس بارے میں صالحین کا کوئی فیصلہ ہو تو پھر اجتہاد کیا جائے۔

ان احادیثِ مبارکہ سے قیاس و اجتہاد کا واضح ثبوت ملتا ہے نیز یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دورِ صحابہ میں فقیہ صحابہ اجتہاد کیا کرتے تھے اور دوسرے لوگ ان کی تقلید بھی کرتے تھے۔

شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلوی رقمطراز ہیں: ” صحابَۂ کرام سے مذاہبِ اربعہ کے ظہور تک لوگ بغیر انکار کیے کسی نہ کسی عالم کی ہمیشہ تقلید کرتے رہے، اگر یہ باطل ہوتا تو علماء ضرور انہیں منع کرتے۔ مزید فرمایا: ”جاننا چاہیے کہ چاروں مذاہب میں سے کسی ایک کی تقلید میں بڑی مصلحت ہے اور ان سے روگردانی میں بہت بڑا خسارہ ہے۔“

ارشادِ باری تعالیٰ ہوا:

”اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔“

صدر الافاضل فرماتے ہیں:

کیونکہ ناواقف کو اس سے چارہ ہی نہیں کہ واقف سے دریافت کرے اور مرض جہل کا علاج یہی ہے کہ عالم سے سوال کرے اور اس کے حکم پر عامل ہو۔اس آیت سے تقلید کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ

”سرکارِ دوعالم نورِ مجسم ﷺ        نے فرمایا:

بیشک ایک شخص نماز پڑھے گا، روزے رکھے گا، حج اور جہاد بھی کرے گا لیکن وہ منافق ہوگا۔ صحابَۂ کرام نے عرض کی: یا رسول اللّٰہ ﷺ  وہ کس وجہ سے منافق ہوگا؟

آپ ﷺ     نے فرمایا:” وہ اپنے امام پر طعنہ زنی کی وجہ سے منافق ہوگا۔ عرض کی:امام کون ہے؟

فرمایا:اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”فَاسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْر . الخ“. اس حدیث مبارکہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ ودیگر ائمہ دین پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور خود نفسِ امارہ اور شیطان ملعون کے مقلد بنے ہوئے ہیں۔

Share:
keyboard_arrow_up