Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 86 of 90

رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرا لیا، اور اللّٰہ نے اسے باوصف علم کے گمراہ کیا، اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا تو اللّٰہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے، تو کیا تم دھیان نہیں کرتے ۔

تفسیر صاوی میں مرقوم ہے کہ”

ان چاروں مذاہب کے علاوہ کسی اور کی تقلید جائز نہیں اگر چہ وہ بظاہر صحابَۂ کرام کے قول اور حدیث صحیح اور کسی آیت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ جو ان چاروں مذاہب سے خارج ہے وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے والا ہے، بسا اوقات یہ کفر تک پہنچا دیتا ہے کیونکہ قرآن وحدیث کے ظاہری معنیٰ مراد لینا اور ان کی حقیقت کو نہ سمجھنا کفر کی جڑ ہے“۔

تفسیر احمدی میں ہے:

”اس پر اجماع ہے کہ ان چار مذاہب کے سوا کسی اور کی اتباع جائز نہیں“۔ اسی لیے تمام اکابر محدثین بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، نسائی، دارمی، طحاوی وغیرہ رحمہم اللّٰہ کسی نہ کسی امام کے مقلد ہیں۔ امام بخاری، امام ابوداؤد اور امام نسائی کا مقلد ہونا تو خود غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی نے” الحطہ“ میں بیان کیا ہے۔ جب ایسے جلیل القدر محدثین، ائمہ اربعہ میں سے کسی نہ کسی کے مقلد ہیں تو پھر چند کتابیں پڑھے ہوئے اگر خود کو تقلید سے بے نیاز سمجھیں تو کیا یہ گمراہی نہیں ہے؟

غیر مقلدوں کے پیشوا مولوی محمد حسین بٹالوی نے ”اشاعت السنۃ“ میں اس حقیقت کا اعتراف یوں کیا: ” پچیس برس کے تجربے سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق کی تقلید کے تارک بن جاتے ہیں وہ آخر کو اسلام کو سلام کر بیٹھتے ہیں۔

یہ بات آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگی کہ جو شخص بھی امامِ اعظم کی تقلید نہیں کرتا وہ بہر حال کسی نہ کسی مولوی صاحب کی تقلید ضرور کرتا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ موجودہ پُرفتن دور کے کسی مفاد پرست مولوی صاحب کی تقلید کرنے کی بجائے اُس جلیل القدر امام اعظم کی تقلید کی جائے جس نے صحابَۂ کرام علیہم الرضوان کے مبارک زمانہ میں آنکھ کھولی اور ان کی زیارت کی، اور جس کی عظمت پر اکابر ائمہ دین و محدثین کرام متفق ہیں۔

غیر مقلد عالم مولوی وحید الزماں صاحب نے اپنے ہم مسلک لوگوں سے یہی تلخ سوال کیا تھا جس کا جواب اب تک ان کے ذمہ ہے۔

ہمارے اہلحدیث بھائیوں نے ابن تیمیہ اور ابن قیم اور شوکانی اور شاہ ولی اللّٰہ اور مولوی اسماعیل کو دین کا ٹھیکیدار بنا رکھا ہے۔

بھائیو! ذرا غور کرو اور  انصاف کرو، جب تم  نے ابو حنیفہ اور امام شافعی کی تقلید چھوڑدی تو ابن تیمیہ یا ابن قیم اور شوکانی، جو ان سے بہت متأثر ہیں ان کی تقلید کیا ضرورت؟“۔

صدر الشریعہ علامہ مولانا امجد علی اعظمی قادری رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں:

تمام مسلمانوں سے الگ غیر مقلدوں نے ایک راہ نکالی کہ تقلید کو حرام و بدعت کہتے اور ائمہ دین کو سب و شتم سے یاد کرتے ہیں مگر حقیقت میں تقلید سے خالی نہیں۔ ائمہ دین کی تقلید تو نہیں کرتے مگر شیطان لعین کے ضرور مقلد ہیں۔

یہ لوگ قیاس کے منکر ہیں اور قیاس کا مطلقاً انکار کفر ہے۔ یہ تقلید کے منکر ہیں اور تقلید کا مطلقاً انکار کفر ہے۔ مطلق تقلید فرض ہے اور تقلید شخصی واجب ہے“۔

Share:
keyboard_arrow_up