Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 87 of 90

فقہ حنفی دراصل حدیث ہے

سوال : کیا چاروں مذاہب اہلِ سنت ہیں؟ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ” تم حدیث چھوڑ کر فقہ کی پیروی کرتے ہو جبکہ ہم حدیث کی پیروی کرتے ہیں لہٰذا اماموں کی فقہ چھوڑ کر حدیث کو راہنما بناؤ۔“ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب : حنفی مذہب، مالکی مذہب ، شافعی مذہب اور حنبلی مذہب چاروں حق ہیں اور چاروں اہل سنت و جماعت ہیں۔ ان کے عقائد یکساں ہیں البتہ صرف اعمال میں فروعی اختلاف ہے۔ ان چاروں میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ مجتہد سے اگر اجتہاد میں خطا ہو جائے پھر بھی وہ گناہگار نہیں بلکہ اس اجتہاد میں اس کی تقلید بھی صحیح ہوگی۔

حدیث شریف میں ارشاد ہوا:

”جب حاکم اجتہاد کرے اور صحیح کرے تو اس کو دو ثواب ہیں اور اگر اجتہاد میں خطا کرے تو اس کو ایک ثواب ہے۔“

اب پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ حدیث کسے کہتے ہیں؟

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ الله شرح مشکوۃ کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:

”جمہور محدثین کے نزدیک نبی کریم کا قول حدیث قولی ہے، آپ کا فعل حدیث فعلی ہے اور اسی طرح جو کام آپ کے سامنے کسی نے کیا اور آپ نے اس سے نہ روکا اور سکوت فرمایا، وہ حدیث تقریری ہے۔اسی طرح صحابَۂ کرام اور تابعین کے اقوال، افعال اور ان کا کسی کام سے نہ روکنا بھی احادیث ہیں۔

جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ تابعی کا قول حدیثِ قولی ہے، اس کا فعل حدیثِ فعلی ہے اور اس کا کسی کے قول یا فعل پر سکوت فرمانا حدیث تقریری ہے،تو امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا قول، فعل اور سکوت بھی حدیث قرار پایا کیونکہ آپ تابعی ہیں۔ آپ ۸۰ھ میں پیدا ہوئے، تقریباً بیسں صحابہ کرام کا زمانہ پایا اور ان سے ملاقات کی۔ یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے کہ آپ نے سات صحابَۂ کرام سے بلا واسطہ احادیث سنی ہیں۔

اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ فقہ حنفی در حقیقت حدیث ہی ہے۔ لہٰذا لوگوں کا یہ کہنا کہ ”تم حدیث چھوڑ کر فقہ کی پیروی کرتے ہو“ بالکل غلط ہے۔

دراصل نبی کریم سے شریعت اخذ کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کے دو طریقے ہیں۔

اول: ظاہری طریقہ یعنی اسناد کے ساتھ حدیث بیان کرنا (متواتر ہو یا غیر متواتر)

دوم: حضور کے اقوال وافعال و تقریر سے جو مسئلہ سمجھنا، اُسے آقا و مولیٰ ﷺ  کی طرف انتساب کیے بغیر بیان کرنا۔

اول الذکر طریقے سے احادیث بیان کرنے میں صحابَۂ کرام بے حد احتیاط کرتے بلکہ دوسروں کو بھی منع فرماتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ نے کثرت روایت سے منع فرمایا۔

حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا:

”سوائے ان احادیث کے جن پر عمل کیا جاتا ہے دیگر احادیث کی روایت کم کر دو۔

سیدنا امام اعظم رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما  کے اس قانون پر عمل کیا اور حدیث کی پہلی قسم کی روایت میں کثرت نہ کی۔

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کوفہ کے مفتی ومدرس مقرر ہوئے، فتوے دیا کرتے تھے مگر جب حدیث مسند متصل بیان کرتے تو پیشانی پسینہ پسینہ ہو جاتی ، کانپنے لگتے اور فرماتے ، ان شاء اللّٰہ کذالک، یا ہکذا ونحوہ۔ شاگردوں کا بیان ہے کہ ہم لوگ سال سال بھر تک ان کے پاس روزانہ درس میں حاضر ہوتے تھے مگر کسی دن بھی قال رسول اللّٰہ ﷺ  نہ سنتے۔ ان کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا۔

جن صحابَۂ کرام نے احادیث کو فتاویٰ کی صورت میں بیان کیا ان میں حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہم زیادہ نمایاں ہیں۔

حضرت ابراہیم نخعی رضی اللّٰہ عنہ نے کوفہ میں سیدنا عبداللّٰہ بن مسعود و سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہما سے اور پھر ان سے حضرت حماد رضی اللّٰہ عنہ نے حصولِ علم کیا ۔ پھر ان کے فتاویٰ کی روشنی میں امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ نے فقہ حنفی کی بنیاد رکھی جو دراصل مذکورہ جید صحابہ و تابعینِ کرام کی فقہ یا با الفاظ دیگر محمدی فقہ ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up