امام اعظم کے اجتہاد کے متعلق حافظ ابن حجر مکی شافعی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں:
”امام ابو حنیفہ سب سے پہلے قرآن کریم میں حکم تلاش کرتے ، اگر نہ ملتا تو سنتِ رسول میں دیکھتے ۔ اگر دونوں میں حکم نہ پاتے تو صحابہ کے اقوال سے راہنمائی لیتے ۔ اگر ان اقوال میں اختلاف ہوتا تو اس قول کو لیتے جو قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہوتا۔ اگر کسی صحابی کا قول بھی نہ ملتا تو تابعین کی طرح خود اجتہاد کرتے“۔
محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ نے آپ کے ہمعصر جلیل القدر محدث امام عبداللّٰہ بن مبارک رضی اللّٰہ عنہ کا اس بارے میں یہ قول نقل کیا ہے،”
یوں نہ کہو کہ یہ امام ابو حنیفہ کی رائے ہے بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث کی تفسیر ہے“۔
علم حدیث میں امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی احتیاط کے متعلق امام وكيع رحمۃاللّٰہ علیہ (م ۱۹۷ھ ) یوں گواہی دیتے ہیں کہ” میں نے حدیث میں جیسی احتیاط امام ابو حنیفہ کے یہاں دیکھی وہ کسی دوسرے میں نہ پائی“۔
امام اعظم علم و فضل کے بلند مقام پر فائز ہونے کے باوجود اپنی رائے کو حرف آخر قرار نہیں دیتے تھے ۔ دین میں احتیاط کے پیش نظر ہر مسئلہ چالیس جید فقہاء پر مشتمل مجلس میں پیش ہوتا۔ بقول امام موفق بن احمدمکی رحمہ اللّٰہ ” دلائل سنے اور سنائے جاتے، بعض اوقات مہینہ یا زیادہ عرصہ بحث جاری رہتی۔ جب مسئلے پر اتفاق ہو جاتا تو امام ابو یوسف اسے اصول میں لکھ لیتے، اس طرح تمام اصول مرتب ہوئے۔
محدث علی قاری رحمہ اللّٰہ رقمطراز ہیں:
”انہوں نے تراسی (۸۳) ہزار مسائل طے فرمائے جن میں سے اڑتیسں ہزار کا تعلق عبادات سے اور باقی مسائل کا تعلق معاملات سے ہے۔
جو امام اعظم سے بغض وعناد کے باعث فقہ حنفی سے چڑتے ہیں ان کی ہدایت کے لیے ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔
محدث کبیر، یزید بن ہارون رحمہ اللّٰہ درس کے دوران امام اعظم کے ارشادات سنا رہے تھے کہ کسی نے کہا: ”ہمیں حدیثیں سنائیے اور لوگوں کی باتیں نہ کیجیے۔ آپ نے اس سے فرمایا:”تمہارا مقصد صرف حدیثیں سننا اور جمع کرنا ہے، اگر تمہیں علم حاصل کرنا ہوتا تو تم حدیث کی تفسیر اور معانی معلوم کرتے اور امام ابوحنیفہ کی کتابیں اور ان کے اقوال دیکھتے جو تمہارے لیے حدیث کی تفسیر کرتے ہیں۔ پھر آپ نے اس کو ڈانٹ کر مجلس سے نکال دیا۔
بعض نا سمجھ حاسدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ” فقہ حنفی کی تائید میں جو احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ ضعیف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض علم حدیث سے جہالت پر مبنی ہے۔ صحابَۂ کرام کے زمانے میں کوئی حدیث بھی ضعیف، معلل یا شاذ وغیرہ نہیں تھی بلکہ صحیح کے درجے میں تھیں کیونکہ حدیث کا ضعیف ہونا راوی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
امام اعظم تابعی ہیں اس لئے آپ کو ایک دو واسطوں سے یہ احادیث ملیں۔ راوی کی وجہ سے ان احادیث کو ضعیف کہنا درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعد والوں کے پاس یہ احادیث کئی واسطوں سے پہنچی ہیں جبکہ امام اعظم کے پاس وہ احادیث براہِ راست کسی صحابی سے پہنچی ہیں یا کسی ایک تابعی کے واسطے سے۔
اور امام اعظم کا یہ بھی ارشاد ہے:
”جو حدیث صحیح ہے وہی میرا مذہب ہے“۔ تو پھر امام اعظم کے زمانہ میں ان احادیث کو ضعیف کیسے کہا جا سکتا ہے۔
امام اعظم کی فضیلت میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی تصنیف، ”کشف الحجوب“ میں فرماتے ہیں کہ”
یحیی بن معاذ رازی رحمہ اللّٰہ کا ارشاد ہے کہ میں نےآقا ومولیٰ ﷺ کا خواب میں دیدار کیا تو بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللّٰہ ﷺ! میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ ارشاد فرمایا: ”ابو حنیفہ کے علم میں“۔

