انبیاء کرام گناہوں اور خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں، اعلانِ نبوت سے قبل بھی اور بعد بھی ان سے گناہ ہونا شرعاً ناممکن ہے۔
قرآن حکیم میں انبیاء کرام کے بارے میں جن امور کا ذکر ہے ان کی حقیقت گناہ نہیں ، وہ یا تو نسیان ہیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام کا گندم کا دانہ کھا لینا اور یا وہ لغزش ہیں جیسے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا۔ انبیاء علیہم السلام کے حق میں بھول اور لغزش دونوں جائز ہیں لیکن سید الانبیاء ﷺ کے حق میں یہ دونوں جائز نہیں ، کیونکہ آپ کا مرتبہ تمام انبیاء کرام سے بلند وبالا ہے۔
انبیاء کرام کی تعداد مقرر کرنا جائز نہیں بس یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ سب انبیاء پر ہمارا ایمان ہے جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان کی جاتی ہے۔ انبیاء کرام تمام مخلوق سے افضل ہیں اور ان میں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔
جس نبی پر کتاب نازل ہو اسے رسول کہتے ہیں۔ سب نبیوں اور رسولوں میں ہمارے آقا ﷺ سب سے افضل اور آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی ہوا اور نہ ہوگا، ختم نبوت کا منکر کا فر ہے۔
انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے مزارات میں اسی طرح حقیقی طور پر زندہ ہیں جیسے پہلے دنیا میں تھے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ان پر ایک آن کے لیے موت طاری ہوئی اور پھر وہ زندہ کر دیے گئے، وہ کھاتے پیتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں آتے جاتے ہیں اور تصرف فرماتے ہیں۔
آقا و مولیٰﷺ کا ارشاد ہے: ”بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کے جسموں کا کھانا زمین پر حرام کر دیا، پس اللّٰہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں ۔
تمام انبیاء کرام کو اللّٰہ تعالیٰ نے علم غیب عطا فرمایا اور اپنے حبیب ﷺ کو”مَا كَانَ وَمَا يَكُون“ یعنی کائنات میں جو کچھ ہو چکا اور جو آئندہ ہوگا، ان سب کا علم عطا فرمایا۔ یہ قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
جن آیات میں علم غیب کی نفی کی گئی ہے ان سے مراد اس علم کی نفی ہے جو ذاتی یعنی بغیر خدا کے بتائے ہو۔ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا سے انبیاء کرام کیلئے علمِ غیب ماننا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ مطلق علم غیب کا منکر کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔ اولیاء عظام کو بھی انبیاء کرام کے وسیلے سے علم غیب عطائی حاصل ہوتا ہے۔ سب انبیاء کرام کی تعظیم فرض ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اے لوگو! تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللّٰہ کی پاکی بولو۔
ثابت ہوا کہ ایمان مقدم ہے یعنی ایمان کے بغیر تعظیم و توقیر قبول نہ ہوگی اور حضور ﷺ کی تعظیم کے بغیر عبادات بیکار ہوں گی ۔ جو شخص نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے یا آپ کے لیے عیب بتائے یا نقص تلاش کرے یا وہ عوارضِ بشری جو آپ کیلئے جائز تھے ان کی وجہ سے آپ کی تحقیر کرے یا آپ کی شان گھٹانے کی کوشش کرے ، وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
محبوب خداﷺ کی محبت ایمان کی جان اور نجات کا ذریعہ ہے۔
آقا ومولیٰﷺ کا فرمان ہے،
” تم میں سے کوئی بھی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور سب انسانوں سے زیادہ پیارا نہ ہو جاؤں۔
آپ نے اپنے ایک محبت کرنے والے صحابی کو خوشخبری دی، ”أَنتَ مَعَ مَنْ أَحْبَيْتَ“تم جن سے محبت کرتے ہو ، قیامت میں انہی کے ساتھ ہوگے۔
دوسری حدیث میں ارشاد ہوا:
”اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ “جو جس سے محبت کرتا ہے قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا۔

