ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
باب اول عقائد
بسم الله الرحمن الرحيم
والصلوة والسلام على حبيبه الكريم
سوال: اللّٰہ تعالیٰ، انبیاء کرام، سید الانبیاء ﷺ، ملائکہ، آسمانی کتب اور آخرت کے متعلق بنیادی عقائد بیان فرمائیے۔
جواب : ایمان یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺ کی رسالت کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کیا جائے اور تمام ضروریاتِ دین کی تصدیق کی جائے۔ دین اسلام کی کسی مشہور و معلوم بات کا انکار کرنا یا اس میں شک کرنا یا کسی شرعی حکم کا مذاق اڑانا یا کسی سنت کو ہلکا جاننا یا مذاق میں کوئی کفریہ جملہ بولنا کفر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی حفاظت اور شریعت کی پیروی دین کا علم حاصل کیے بغیر ممکن نہیں اسی لیے آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا:”علم دین سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔“
اب اختصار کے ساتھ سوال میں مذکور بنیادی عقائد تحریر کیے جاتے ہیں:
اللہ تعالیٰ پر ایمان: اللّٰہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی عبادت کے لائق ہے، نہ تو وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے لیےکوئی اولاد ہے، اسے کسی نے پیدا نہیں کیا۔ وہ خود اپنے آپ سے موجود ہے اور اسی نے سب کو پیدا کیا ہے، وہ خود بھی اور اس کی صفات بھی ازلی و ابدی ہیں یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
اللّٰہ تعالیٰ بے نیاز اور غنی ہے۔ وہ جسے چاہے زندگی دے جسے چاہے موت دے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، وہ کسی کا محتاج نہیں سب اس کے محتاج ہیں، وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
وہ ہر ظاہر اور پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔ اس کے علم کی کوئی انتہا نہیں۔وہ سب کچھ ازل سے جانتا ہے، جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا وہ اس نے لکھ لیا۔
یوں سمجھ لیجیے کہ جیسا ہم اپنے ارادے اور اختیار سے کرنے والے تھے ویسا اللّٰہ تعالیٰ نے لکھ دیا یعنی اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا ورنہ جزا و سزا کا فلسفہ بے معنی ہو کر رہ جاتا،
یہی عقیدۂ تقدیر ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے ہر فعل میں کثیر حکمتیں ہوتی ہیں خواہ ہماری سمجھ میں آئیں یا نہیں۔ وہ جس کا رزق چاہے وسیع فرماتا ہے اور جس کا رزق چاہے تنگ کر دیتا ہے، ایسا کرنے میں اس کی بیشمار حکمتیں ہیں، کبھی وہ رزق کی تنگی سے آزماتا ہے اور کبھی رزق کی کثرت سے۔ وہ استطاعت سے زیادہ کسی کو آزمائش میں نہیں ڈالتا اور یہ اس کا فضل و کرم ہے کہ مسلمانوں کو تکالیف پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔ اچھے کام کو خدا کے فضل و کرم کی طرف منسوب کرنا چاہیے اور برے کاموں کو شامتِ نفس سمجھنا چاہیے۔
اللّٰہ تعالیٰ کی تمام صفات اس کی شان کے مطابق ہیں، وہ دیکھنے کے لیے آنکھ، سننے کے لیے کان اور ارادہ کرنے کے لیے ذہن کا محتاج نہیں کیونکہ جسم سے پاک ہے۔ وہ ہر شے پر قادر ہے مگر ہر عیب اس کے لیے محال و نا ممکن ہے کیونکہ وہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔
نبوت ورسالت پر ایمان: اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے لوگوں کی ہدایت کیلئے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔ سب انبیاء کرام علیہم السلام مرد تھے، نہ کوئی جن نبی ہوا اور نہ کوئی عورت۔
انبیاء کرام وہ اعلیٰ شان والے بشر ہیں جن پر اللّٰہ تعالیٰ نے وحی نازل کی اور انہیں معجزات عطا فرمائے۔ جس طرح ہمیں اپنی اختیاری حرکات پر قدرت ہوتی ہے اسی طرح انبیاء کرام کے معجزات ان کے اختیار میں ہوتے ہیں۔
انبیاء کرام پیدائشی نبی ہوتے ہیں البتہ نبوت کا اعلان وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے کرتے ہیں۔ یہ ایسی کامل عقل والے ہوتے ہیں کہ دوسروں کی عقل ان کی عقل کے کروڑویں حصے تک نہیں پہنچ سکتی۔ انبیاء کرام کو اپنی مثل بشر سمجھنا گمراہی ہے قرآن کریم میں یہ کافروں کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبیوں کو محض اپنی مثل بشر جانتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نفوسِ قدسیہ بشری شکل و صورت ہی میں دنیا میں جلوہ گر ہوتے ہیں لیکن ان کے جسمانی وروحانی کمالات درجہء کمال پر ہوتے ہیں، ان کی سماعت و بصارت اور طاقت و قدرت عام انسانوں سے نہایت اعلیٰ وارفع ہوتی ہے، اس پر قرآن وحدیث گواہ ہیں۔

