(وائس چانسلر محی الدین اسلامی یونیورسٹی، نیریاں شریف ، آزاد کشمیر) اسلام، انسانی زندگی کے تمام تقاضوں پر محیط دین ہے کہ اس کی تعلیمات، دنیوی کامرانیوں کا وسیلہ بھی ہیں اور اُخروی نجات کا واحد ذریعہ بھی۔
زندگی کا کوئی لمحہ بے توفیق نہیں چھوڑا گیا اور کسی پیش آمدہ مسئلہ کو بے یقینی اور بے سمتی کی زہرنا کیوں کا اسیر نہیں رہنے دیا گیا۔ احکام کی ہمہ گیری کا بھی اہتمام ہوا ہے اور استطاعت کی حدود کا بھی۔ قرآن و سنت نے نظریاتی اور عملی رہنمائی کی اساس مہیا کی ہے، اجماع معاشرتی وقار کا ضامن ہے اور قیاس انسانی شعور پر اعتماد کا مظہر ہے، ان چاروں نے استنباط مسائل کو باضابطہ علم بنا دیا ہے کہ انسانی معاشرہ اس کا متقاضی تھا۔
اسی با ضابطہ علم کو فقہ کہتے ہیں۔ علم فقہ اُس دانش کا نام ہے جو قرآن وسنت سے کشید کی جاتی ہے۔ تدوین فقہ کا اہتمام، مسلم امت کے اسی شعور سے ناشی ہوا ہے کہ قرآنی تعلیمات اور نبوی سیرت کو معاشرتی ضوابط کا حکم بنایا جائے اور یہ سطوت ہمیشہ کے لیے قائم ہو جائے۔ قرآن و حدیث کی حفاظت کا مقصد کسی یادگار کو محفوظ کرنا نہ تھا بلکہ مقصد ان سے مترشح ہونے والے حسنِ عمل کو بنی نوع انسان کے وجود میں اتارنا تھا تا کہ انسان کی معاشرتی، معاشی، انفرادی اور اجتماعی زندگی خالق کائنات کی رضا کے مطابق ڈھل جائے۔
خطرہ تھا کہ متون کی حفاظت پر کی جانے والی محنت، من پسند استخراج کی دراڑوں سے بے اثر نہ ہو جائے اس لیے علم فقہ اور اصولِ فقہ کی ترتیب و تدوین کی تحریک ہوئی۔ اسکے حدود و ماخذ واضح کر دیے گئے تاکہ انسانی فکر اپنی پرواز میں نشانِ وحدت ہی نہ بھول جائے۔ دین میں علمی و عملی رسوخ رکھنے والے علماء نے انتھک محنت کی کہ یہ صرف جمع و تدوین کا مسئلہ نہ تھا، استخراج کا مرحلہ تھا جس میں روایات کی صداقت، معانی تک رسائی کی قوت اور راہنمائی مہیا کرنے کی صلاحیت درکار تھی تاکہ دین کے احکام کا غلبہ بھی قائم رہے اور معاشرے سے فرار کی صورت بھی پیدا نہ ہو۔
ائمہ اربعہ کی عظمت کو امت کے مجموعی شعور نے خراج محبت پیش کیا ہے اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی عبقریت کا ہر کسی نے اعتراف کیا ہے۔ یہ سلسلہ ہدایت جاری ہے اور ان شاء اللّٰہ جاری رہے گا۔ اک گونہ مسرت ہوئی کہ علماء عصر حاضر اس قومی وملی ضرورت سے بے خبر نہیں، ماضی کے احکام کو جدید پیرا ہن میں پیش کرنے کا فن مشکل ضرور ہے مگر نا پید نہیں۔
پیر طریقت علامہ مولانا شاہ تراب الحق قادری عصر حاضر کے ان علماء میں سے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے تحریر و تقریر کی بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ آپ کے قلم سے خواتین کے حوالے سے دینی مسائل کی ترتیب و تدوین، اک فقہی ضرورت کا ازالہ بھی ہے اور حدود نا آشنا ہوتے ہوئے معاشرے کی اصلاح کی عملی کوشش بھی۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اصلاح کا خمیر بھی عورت کے وجود سے ہی تیار ہوتا ہے اور فسادِ معاشرت کے تمام سوتے بھی اس کے وجود سے پنپتے ہیں، اسلام نے اسی مرکزی حیثیت کے خیال سے عورت کے لیے ہمہ جہتی احکام دیے ہیں کہ یہی وہ چور دروازہ ہے جہاں سے شیطنت شب خون مارتی ہے، اگر عورتیں للہیت کا پیکر بن جائیں تو ان کے سوزِ دروں سے ملتوں کی راستی کی نوید ملتی ہے۔
حضرت مولانا مدظلہ نے ایک نہایت اہم موضوع کا انتخاب کیا ہے اور پھر اس کا حق بھی ادا کیا ہے۔ چند موضوعات کے علاوہ جو کتاب کے آخر میں صیانتِ عقیدہ کے حوالے سے بیان کیے گئے، کتاب کا مجموعی رخ خواتین کے مسائل کی طرف ہے۔ عبادات و حقوق کا بیان اور معاشرتی بے اعتدالیوں کی اصلاح قرآن وسنت کی روشنی میں اس طرح کی گئی ہے کہ مولانا کے علم کی وسعت، مشاہدے کی قوت اور دینِ متین سے ا ن کی گرویدگی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر اس کتاب کو قدرے ندرت کے ساتھ جدید اسلوب اور طباعت کی خوش رنگی کے ساتھ طبع کیا جائے تو یہ خواتین کے تدریسی اداروں کی نصابی کتاب بن سکتی ہے۔ میں اس عمدہ کاوش اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تالیف پر حضرت مولانا مدظلہ کو نیاز مندانہ ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ نقشِ ثانی نقشِ اول سے حسین تر ہوگا۔
اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب مکرم ﷺ کے صدقے دین کی سمجھ اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

