Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 5 of 90

حضور کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللّٰہ عنہا نے 58 سال کی عمر میں غزوۂ خندق میں شرکت کی اور ایک یہودی کوقتل کیا پھر اس کا سر کاٹ کر یہودیوں کے مجمع میں پھینک دیا۔

حضرت ام عمارہ رضی اللّٰہ عنہا نے بھی کئی جنگوں میں شرکت کی ۔غزوہ احد میں کفار سے لڑتے ہوئے بارہ تیرہ زخم آئےجبکہ ان کی عمر 43 سال تھی۔ 52 برس کی عمر میں جنگِ یمامہ میں شریک ہوئیں، دوران جنگ ایک بازو کٹ گیا اور 11 زخم آئے ۔ اتنی عمر میں ایسی شجاعت دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

غزوہ احد میں ان کے بیٹے عبداللہ بن زید رضی اللّٰہ عنہ کے بازو پر گہرا زخم آ یا۔ انہوں نے پٹی باندھی اور بولیں: ”جا کافروں سےمقابلہ کر“حضور نے آپ کے حوصلے کا یہ منظر دیکھ کر تعریف کی اور دعا فرمائی۔

حضرت خنساء رضی اللّٰہ عنہا بہترین شاعرہ تھیں، آپ جنگ قادسیہ میں اپنے چاروں بیٹوں کے ساتھ شریک ہوئیں۔ جنگ سے قبل انہیں نصیحت کی: ’’جب لڑائی عروج پر ہو اور اس کے شعلے خوب بھڑک رہے ہوں تو تم جرأت و بہادری سے جنگ کی گرم آگ میں گھس جانا اور کفار کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ‘‘ جنگ ہوئی تو چاروں بیٹےبے جگری سے لڑے اور شہید ہو گئے۔ جب انہیں خبر ملی تو کہا: ’’اللّٰہ کا شکر ہے جس نے مجھے چار شہید بیٹوں کی ماں ہونے کا اعزاز بخشا۔‘‘ سبحان اللّٰہ! یہ عزم و حوصلہ مسلمان عورت ہی کے شایان ہے۔

حضرت اسماء بنت ابو بکر رضی اللّٰہ عنہا کا واقعہ بھی جرات وحق گوئی کی روشن مثال ہے۔ جب آپ کے بیٹے حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رضی اللّٰہ عنہما کو حجاج نے پھانسی دی اور ان کا جسم کچھ دن لٹکا رہا تو یہ حجاج کے پاس گئیں اور بولیں:” کیا اس شہ سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا؟“ وہ بولا: ”اس منافق کے اترنے کا؟“ آپ نے فرمایا:” وہ منافق نہیں تھا۔ دن کو روزہ دار اور راتوں کو عبادت کرنے والا تھا۔“ حجاج جھلا کر بولا: ” نکل جاؤ تم پاگل ہوگئی ہو “ آپ نے فرمایا: ”میں پاگل نہیں ہوں البتہ تم ایک حدیث سنو !

آقا و مولیٰ فرمایا تھا:

”بنو ثقیف میں ایک کذاب اور ایک ظالم پیدا ہوگا کذاب تو مسیلمہ کذّاب تھا اور ظالم تم ہو ۔ “ آپ کی اس حق گوئی پر ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کا قاتل حجاج تلملا کر رہ گیا۔ آپ راہِ خدا میں دل کھول کر خرچ کرتیں اور دوسری خواتین کو یہ نصیحت کیا کرتیں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے مال کے ضرورت سے بچنے یا زیادہ ہونے کا انتظار نہ کیا کرو کیونکہ ضروریات تو دن بدن بڑھتی ہی رہتی ہیں، اس لئے راہ خدا میں خرچ کرتی رہا کرو کہ اس سے مال میں برکت ہوتی ہے۔

اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ علم و تدریس، شجاعت و حق گوئی، صبر و شکر اور راہِ خدا میں خرچ کرنا مسلمان خواتین کے نمایاں اوصاف ہیں۔

حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا سے مروی احادیث کی تعداد 18 ہے۔ آپ نے خواتین کو حصول علم اور شرم و حیا کے علاوہ سادگی اور تواضع کا بھی درس دیا۔ آپ اپنے ہاتھ سے چکی پیستیں جس کے باعث ہاتھ پر نشان پڑ گئے، آپ خود پانی کی مشک بھر کر لاتیں جس کی وجہ سے شانہ پر مشک کی رسی کے نشان پڑ گئے۔      آقائے کائنات کی لختِ جگر ہونے کے باوجود آپ نے کبھی ان کاموں کو عار نہیں سمجھا، خواتین کو چاہئے کہ وہ ان مقدس خواتین کے سیرت و کردار کو مشعلِ راہ بنائیں ۔

خاک پائے علماء حق محمد آصف قادری غفر له ولوالد یہ تقریظ فاضلِ جلیل محترم ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی

Share:
keyboard_arrow_up