Khuwateen aur Deeni Masaail

Total Pages: 90

Page 4 of 90

تاریخ گواہ ہے کہ اسلام  نے خواتین کو جس قدر عزت دی اور جس احسن طریقے سے ان کے حقوق کا تحفظ کیا ،کسی اور مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ پردے میں رہتے ہوئے مسلمان خواتین علم و فضل کی بلندیوں پر فائز ہوئیں اور انہوں نے زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

اہلِ علم و دانش سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے اور جیسے افکار و اعمال ماں کے ہونگے اولاد پر اس کا اثر ضرور آئے گا۔ جب تک خواتین اللّٰہ تعالیٰ اور رسول اللّٰہ کی فرمانبردار رہیں۔ امامِ حسین، غوثِ اعظم ،امام غزالی، محمد بن قاسم، مجدد الف ثانی اور امام احمد رضا بریلوی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے فرزندان اسلام پیدا ہوتے رہے۔

ڈاکٹر اقبال کے ایک شعر کا مفہوم یہ ہے۔

”اے عورت! تو حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی طرح باحیا اور باپردہ ہو جا، تا کہ تیری گود میں ایسا فرزند آئے جو امام حسین کی صفات کا مظہر ہو۔“

اب ہم دنیائے علم و فضل میں نمایاں مقام رکھنے والی چند مسلمان خواتین کے متعلق مختصر گفتگو کرتے ہیں۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا علم و فضل کے اس اعلیٰ درجہ پر فائز تھیں کہ حضور نے فرمایا:

”آدھا علم عائشہ صدیقہ سے حاصل کرو“

حافظ ابن حجر مکی فرماتے ہیں:

”شریعت کے تمام علوم کا چوتھائی حصہ صرف حضر عائشہ سے منقول ہے۔“(فتح الباری)

کثرتِ روایات کے اعتبار سے آپ کا تیسرا نمبر ہے،آپ سے 2210 احادیث مروی ہیں۔آپ کے تلامذۂ حدیث کی تعداد 88 بیان ہوئی ہے جبکہ بکثرت صحابَۂ کرام آپ سے دینی مسائل میں استفادہ کرتے تھے۔ صاحبِ فتاویٰ صحابہ کی تعداد 130 سے زائدبیان ہوئی ہے ان میں صفِ اول کے مفتی صحابہ میں حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا کا نام سرِ فہرست ہے،

دوسری صف میں حضرت ام سلمیٰ اور تیسری صف میں حضرت ام عطیہ ، حضرت ام حبیبہ ، حضرت صفیہ، حضرت اسماء بنت ابی بکر، حضرت ام درداء اور حضرت خولہ بنت تویت رضی اللّٰہ عنہن  شامل ہیں۔

حضرت ام سلمیٰ رضی اللّٰہ عنہا سے 387 احادیث مروی ہیں، آپ کے تلامذہ کی تعداد 33 بیان کی گئی ہے۔

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللّٰہ عنہا تعبیر الرویاء کی ماہرہ تھیں، حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ ان سے خوابوں کی تعبیر پوچھا کرتے تھے۔

علامہ ذہبی نے انہیں ”فاضلہ جلیلہ“ کے لقب سے یاد کیا، ان سے  60 احادیث مروی ہیں۔

خواتین کی دینی علوم میں دسترس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ”الاصابہ“ میں تدریس حدیث کا فریضہ انجام دینے والی خواتین کی تعداد 200 بتائی گئی ہے۔

تابعی خواتین میں حضرت عمرہ بنت عبد الرحمٰن کا نام نمایاں ہے جنہیں امام زہری اور امام قاسم بن محمد جیسے محدثین نے علم کا بحرِ بیکراں قرار دیا۔

خواتین نے قرآن و حدیث اور فقہ کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی بہترین کارکردگی دکھائی ۔

جہاد میں شرکت کے جذبہ کا اندازہ اس سے لگائیے کہ ام زیاد رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں:

ہم چھ عورتیں خیبر کی جنگ میں شرکت کے لئے پہنچ گئیں۔

حضور نے ناراضگی سے فرمایا:

” تم کیوں آئیں؟ ہم نے عرض کی: آقا! ہمیں اون بُننا آتا ہے، زخموں کی دوائیں ہمارے پاس ہیں، ہم مجاہدین کو تیر پکڑانے میں مدد کر یں گی اور کچھ نہیں تو ہم مجاہدین کے لئے ستو گھولنے کا کام کر دیا کریں گی۔ حضور نے انہیں ٹھہرنے کی اجازت عطا فرمائی ۔

Share:
keyboard_arrow_up