روحانی تربیت اور خلافت: شاہ تراب الحق قادری صاحب علیہ الرحمۃ کو روحانی فیضان کا سرچشمہ بریلی شریف میں ملا۔ مفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رحمہ اللہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور خلافت سے بھی نوازے گئے۔
قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں بھی فیض حاصل کیا۔ سلسلہ قادریہ رضویہ کے اس عظیم شیخ نے ہزاروں دلوں کی پیاس بجھائی اور دنیا کے کئی خطوں تک اپنا روحانی فیضان پھیلایا۔
امامت و خطابت: 1965ء سے آپ نے امامت و خطابت کا فریضہ انجام دینا شروع کیا۔ محمدی مسجد کورنگی، اخوند مسجد کھارادر اور آخرکار میمن مسجد مصلح الدین گارڈن آپ کا مستقل مرکزِ تبلیغ بن گئی۔ نصف صدی تک آپ کی خطابت نے لاکھوں دلوں کو گرمایا۔ آپ کے خطبات میں مدلل استدلال، قرآنی و حدیثی دلائل کی روشنی، سادہ اور شستہ زبان، عام فہم انداز اور بے ساختہ اخلاص جھلکتا تھا۔ آپ نے صرف خطابت ہی نہیں بلکہ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔
1۔’’ضیاء الحدیث‘‘،
2۔’’جمالِ مصطفیٰ‘‘،
3۔’’تصوف و طریقت‘‘،
4۔’’فلاحِ دارین‘‘،
5۔’’خواتین اور دینی مسائل‘‘،
6۔’’کتاب الصلوٰۃ‘‘،
7۔’’مسنون دعائیں‘‘،
8۔’’تفسیر انوار القرآن‘‘،
9۔’’فضائل صحابہ و اہلبیت‘‘ جیسی کتابوں سے آپ کا علمی ذوق اور وسعت مطالعہ جھلکتا ہے۔
تحریکات اور جماعتی خدمات: شاہ تراب الحق قادری صرف منبر کے خطیب یا مصنف ہی نہیں تھے بلکہ میدانِ عمل کے مردِ مجاہد بھی تھے۔ جماعت اہلسنت کے پلیٹ فارم سے آپ نے تنظیمی و تحریکی خدمات انجام دیں۔ سنی تحریکات کی قیادت کی، گستاخانِ رسالت کے مقابل ڈ ٹے، قادیانیت کی فتنہ گری کا توڑ کیا اور تحریک ختم نبوت و تحریک نظام مصطفیٰ میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی استقامت نے باطل کو ہمیشہ پسپا کیا۔ 1985ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور سیاست کے میدان میں بھی دین کی ترجمانی کی۔ مختلف کمیٹیوں، بورڈز اور تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیں۔ درجنوں سماجی اور دینی اداروں کے سرپرست و ناظم رہے۔ ان کی سیاسی و سماجی زندگی بھی مسلکِ اہل سنت کے تحفظ اور دین کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔
اوصاف و اخلاق: علامہ شاہ تراب الحق قادری رحمہ اللہ کی زندگی میں اخلاص، بے خوفی، تقویٰ اور عشقِ رسول نمایاں تھے۔ وہ مسلک اسلاف کے سچے ترجمان تھے، مداہنت کو برداشت نہ کرتے، باطل کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے۔ ان کی درویشی میں قیادت کا جلال چھپا ہوا تھا، خاکساری کے پردے میں عظمت کا نور چھلکتا تھا۔ وہ اپنے اسلاف کی حیاتِ مبارکہ کی عملی تصویر تھے۔
وصال: 6 اکتوبر 2016ء (4 محرم 1438ھ) کو طویل علالت کے بعد آپ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ میمن مسجد کے صحن میں آپ کے استاد و سسر قاری مصلح الدین صدیقی کے پہلو میں سپرد خاک کیے گئے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں علما، مشائخ، سیاسی رہنما اور عوام الناس شریک ہوئے۔ شاہ تراب الحق قادری کی زندگی جہدِ مسلسل کا استعارہ تھی۔ وہ عشقِ رسول کے علم بردار، تحفظِ ناموسِ رسالت کے پاسبان، مسلکِ رضا کے سفیر اور لاکھوں دلوں کے رہبر تھے۔
اللّٰہ کریم ان کی تربت پر اپنی رحمتوں کے انوار کی بارش فرمائے اور ان کے مشن کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔
پیش لفظ
الحمد لك ياربَّ العلمين والصلوة والسلام علیک یا رحمة اللعالمين
آقا و مولیٰ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے:
”علم دین سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔
“اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنا جیسے مردوں پر فرض ہے اسی طرح خواتین پر بھی لازم ہے۔
ایک اور حدیث پاک میں ارشاد ہوا:
” جو حصول علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے وہ گویا جنت کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے اور فرشتے اس کی خوشنودی کے لیے اس کے قدموں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں۔

