یقیناً اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ شرعی مسائل اور ان کی تصریحات سے متعلق علماء اہلسنت کی کتابوں کے انبار موجود ہیں ۔
ان مستند اور مدلل کتابوں نے شرعی اور فقہی مسائل کا اتنا جامع انداز میں احاطہ کیا ہوا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا فقہی مسئلہ جس کا از روئے قرآن و حدیث و آئمہ مجتہدین کے حوالے سے اس میں جامع جواب نہ دیا گیا ہو، مگر برا ہو اس مشینی دور کا جس نے ہمیں اس قدر سہل پسند بنا دیا ہے کہ ہمیں ان کتابوں کے مطالعہ کی فرصت ہی نہیں۔ سونے پر سہاگہ ہمارا موجودہ نظام تعلیم جس نے ہمیں نئی نئی جدت اور تکنیک میں تو ضرور ماہر بنادیا مگر دینی معلومات سے بالکل بے بہرہ کر دیا، یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے دنیاوی علوم کے ماہر اور اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگ بھی روز مرہ پیش آنے والے دینی مسائل کے سلسلہ میں بالکل کورے اور نابلد ہیں،
بالخصوص خواتین کی حالت زار اس سلسلہ میں انتہائی قابلِ رحم ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ مخصوص مسائل کے احاطے اور مخصوص موضوعات کے احاطے سے متعلق دینی کتب کی اشاعت کا ایک سلسلہ چل رہا ہے تا کہ انتہائی سہل اور عام فہم انداز میں کسی خاص موضوع کا احاطہ کر کے عام مسلمانوں کی معلومات میں اضافہ کیا جائے اور جس قدر ممکن ہو اس مذہبی انحطاط پذیر معاشرے کو سنبھال دیا جائے۔
فاضل مولف علامہ سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ العالی کی تالیف ”خواتین اور دینی مسائل“ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اپنے موضوع پر بڑی خوش اسلوبی سے احاطہ کر نیوالی یہ کتاب عام فہم ہونے کی وجہ سے اب تک کافی پذیرائی حاصل کر چکی ہے اور اسے دوبار زیور طباعت سے آراستہ کیا جا چکا ہے ۔
اس امید کے ساتھ کہ انتہائی خلوص اور للہیت کے ساتھ کی جانے والی اس کاوش کو بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت حاصل ہو اور ساتھ ہی دعا گو ہیں فاضل مؤلف کے لئے کہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور ہمارے سروں پر ان کا سایہ تادیر قائم فرمائے۔ آمین ۔
تعارفِ مصنف ایک ہمہ جہت شخصیت: علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ از: مولانا راشد علی عطاری مدنی (ڈائریکٹر ھادی ریسرچ انسٹیٹیوٹ) علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب علیہ الرحمہ کی شخصیت ہمہ جہت خوبیوں کا مرقع تھی۔ وہ اپنی ذات میں ایک تحریک تھے، ایک انجمن تھے، ایک تنظیم تھے، ایک بزم تھے۔ وہ جلوہ گر تو کراچی میں تھے لیکن ان کی گونج پوری دنیائے سنیت میں سنائی دیتی ہے۔ وہ وقت اور فاصلے کی قید سے ماورا تھے، ان کے فیضان سے قریب و بعید سبھی سیراب ہوتے رہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر: شاہ تراب الحق قادری صاحب 27 رمضان 1365ھ بمطابق 25 اگست 1946ء کو ریاست حیدرآباد دکن کے ایک گاؤں کلمبر میں پیدا ہوئے۔
والد ماجد سید شاہ حسین قادری اور والدہ محترمہ اکبرالنساء بیگم رحمۃ اللہ علیہما تھیں۔ ایک طرف سے سادات کی نسبت تھی اور دوسری طرف فاروقی خان وادے کی وراثت۔
ابتدائی تعلیم حیدرآباد کے مدارس میں حاصل کی اور پھر قیام پاکستان کے بعد 1951ء میں ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ فیض عام ہائی اسکول اور دارالعلوم امجدیہ سے تعلیم حاصل کی اور اپنے وقت کے جید علما سے فیض یاب ہوئے۔

