Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 99 of 115

اس شق کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی تھی کہ قادیانی اور لاہوری احمدی نے حضور اکرم کو خاتم النبیین تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور وہ اسلام کے تمام شعائر کی توہین کے مرتکب ہورہے تھے لہٰذا اس دفعہ کے تحت انہیں غیر مسلم اور اقلیت قرار دیاگیا ہے۔ 10اگست 1992ء کو لاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے قرار دیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298ـ۔ب کے تحت امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا اہلِ بیت جیسے مخصوص الفاظ قادیانی یا مرزا غلام احمد کے پیروکار استعمال نہیں کرسکتے، اور یہ کہ ان الفاظ کے استعمال کی ممانعت قادیانیوں کو دوسرے القاب یا شعائرِ اسلام استعمال کرنے کا لائسنس نہیں دیتی جن سے وہ خود کو مسلمان ظاہر کریں کیونکہ انہیں غیر مسلم قرار دیا جا چکاہے۔

مسلمانو ! غیرت کا مقام ہے: علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمہ تفسیر روح البیان میں رقمطراز ہیں، ’’امامِ اعظم ابوحنیفہ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا، مجھے مہلت دو تاکہ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں۔ امام اعظم نے فرمایا، جو شخص اس سے نشانی طلب کرے گا وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ آقا ومولیٰ کا فرمانِ ذی شان ہے، لانبی بعدی۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ عزیزانِ گرامی! ختم نبوت کا عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں آپ نے ملاحظہ فرمایا۔

مرزا کی شخصیت اور اس کے کفریہ عقائد آپ کی نظر سے گزرے۔ اللّٰہ تعالیٰ ، امامُ الانبیاء، انبیاء کرام کی شان میں مرزا کی گستاخیاں، صحابہ واہلبیت کرام کی توہین اور مسلمانوں کے لئے اس کی غلیظ گالیاں آپ نے ملاحظہ کیں۔ ان باتوں کو پڑھ کر کوئی ذی شعور اور عقل مند انسان ، مرزا قادیانی کو نارمل آدمی بھی کنہیں کہہ سکتا چہ جائیکہ اس کے مسیح موعود یا ظلی نبی ہو نے پر بات کی جائے۔

مسلمانو! غیرت کامقام ہے۔قادیانیوں سے دوستی، میل جول، ان کے ساتھ کھانا پینا، لین دین ، تجارت سب ناجائز وحرام ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے،

{وَلَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِ یْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ}

’’اور ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ چھوئے گی‘‘۔

 باب نہم

یہود ونصاریٰ کی سازشیں: نبوت کا دعویٰ کرنے سے قبل مرزا قادیانی کو انگریز نے ایک سازش کے ذریعے مسلمانوں میں مشہور کیا۔ وہ سازش یہ تھی کہ انگریز نے ایک غریب مگر چالاک ہندو سوامی دیانند سرسوتی کو اسلام دشمن سرگرمیوں کے لئے تیار کیا۔۱۸۷۴ء میں اس نے اپنی رسوائے زمانہ کتاب ’’سیتا رتھ پرکاش‘‘ لکھی جس میں رسول معظم کی حیاتِ طیبہ پر فضول اور بے جا تنقید کے تیر چلائے گئے ، تعدد ازواجِ مطہرات پر گستاخانہ تبصرہ ہوا اور قرآن حکیم کی بعض آیات میں ترمیم و تنسیخ کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ سوامی دیانند نے ۱۸۷۸ء میں بمبئی مکیں ’’آریہ سماج‘‘ کی بنیاد رکھی جس کا نعرہ تھا، ’’ہندوستان صرف ہندوؤں کے لئے ہے۔‘‘۱۸۸۲ء میں اس نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گائے کا ذبیحہ خلافِ قانون قرار دیا جائے۔ یوں آریہ سماجیوں نے اسلام کے خلاف مناظروں کا سلسلہ شروع کردیا اور ہر جگہ فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے۔ سوامی دیانند کی موت کے بعد اس کے ساتھیوں نے شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں شروع کیں جن کا نشانہ اسلام اور مسلمان تھے۔

ان سنگین حالات میں جبکہ جید علمائے اہلسنت کوشہید کیا جاچکا تھا یابطور سزا کالا پانی بھیج دیا گیا تھا اور علماء دیوبند کا حال یہ تھا کہ وہ انگریز کے وفادار اور آلۂ کار بنے ہوئے تھے، انگریز نے ایک منصوبے کے مطابق آریہ سماج کے ہندوؤں اورچند پادریوں کے مقابل مرزا قادیانی کو مناظروں کے لئے لا کھڑا کیا۔

Share:
keyboard_arrow_up