Khatm e Nubuwat

Total Pages: 115

Page 98 of 115

چنانچہ ربوہ گروپ کے سربراہ مرزا ناصراور لاہوری گروپ کے سربراہ صدر الدین اسمبلی میں پیش ہوئے۔طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اراکینِ اسمبلی اپنے اپنے سوالات لکھ کر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کو دیتے اور وہ ان سوالات کو مذکورہ گروپوں کے سربراہوں کے سامنے پیش کردیتے، پھر ان پر جرح ہوتی۔

مرزا ناصر نے قومی اسمبلی میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے مولوی قاسم نانوتوی کی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ پیش کی ۔ اس پر کئی لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے مگر مولانا نورانی نے واشگاف الفاظ میں کہا، ہم ایسی عبارت کو نہیں مانتے اور اس کے قائلین کو مسلمان نہیں جانتے۔ اسی دوران علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری علیہ الرحمہ سے بعض اراکین نے کہا کہ یہ لوگ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں اس کے باوجود آپ انہیں غیر مسلم کیوں کہتے ہیں؟ ان اراکین کو سمجھانے کے لئے علامہ ازہری نے مرزا ناصر سے پوچھا، یہ بتاؤ! جو شخص مرزا قادیانی کو نہ مانے وہ تمہارے نزدیک کون ہے؟ اُس نے برجستہ جواب دیا، ’’وہ ہمارے نزدیک کافر ہے‘‘۔

اس طرح علامہ ازہری نے حکمت ودانائی سے یہ سوال کر کے لوگوں کو سمجھا دیا کہ قادیانی تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ اس طرح آپ نے ان لوگوں کے ذہن صاف کردیے جو قادیانیوں کے متعلق نرم گوشہ رکھتے تھے۔ مرزا ناصر پر گیارہ دن اور صدر الدین پر دو دن جرح کے بعد آخر کار 7 ستمبر 1974ء کو قومی اسمبلی نے دونوں قادیانی گروہوں کوغیرمسلم اقلیت قرار دے دیا۔ بعد ازاں کفر کے مرکز ربوہ کو ’’چناب نگر‘‘ میں تبدیل کردیا گیا۔ جب قرارداد دستخط کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پاس پیش ہوئی تو اُس وقت بھٹو نے کہا تھا،

’’تم قادیانیوں کو کافر قرار دلوا رہے ہو، لگتا ہے تم مجھے پھانسی پر لٹکواؤ گے‘‘۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بھٹو کو پھانسی پر لٹکوانے میں قادیانی شریک تھے اگرچہ بظاہراس کے اسباب کچھ بھی تھے۔ غیر مسلم قرار دیے جانے کے باوجود قادیانی، سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے خود کو مسلمان اور اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہتے تھے۔ ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء کو حکومتِ وقت نے ’’امتناعِ قادیانیت آرڈیننس‘‘ جاری کیا جس کی رُو سے قادیانیوں کو خود کو مسلمان کہنے، اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے اور دیگر اسلامی شعائر استعمال کرنے سے روک دیاگیا۔رب تعالیٰ مسلمانوں کو مرزائیوں کے شر سے بچائے، آمین۔

مسلم اور غیر مسلم کی آئینی تعریف: استاذی المکرم علامہ ازہری علیہ الرحمہ کا ایک اور کارنامہ’’مسلمان‘‘ کی متفقہ تعریف لکھنا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ مولانا کوثر نیازی نے علماء کو چیلنج کیا کہ آپ لوگ مسلمان کی تعریف پر جمع نہیں ہوسکتے۔ مسلمان کی ایسی تعریف لکھیں جس پر تمام علماء کا اتفاق ہو۔ یہ چیلنج علامہ ازہری نے قبول کیا اور مسلمان کی تعریف لکھ کر پیش کی۔ آئینِ پاکستان کے باب5 آرٹیکل 260میں مسلمان کی تعریف یہ درج ہے: ’’مسلم‘‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحیدِ قادرِ مطلق اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ، خاتم النبیین حضرت محمد کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔

’’غیر مسلم ‘‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

Share:
keyboard_arrow_up