اس تحریک میں علامہ سید احمد سعید کاظمی، مولانا عبد الحامد بدایونی، محدثِ اعظم مولانا سردار احمد چشتی قادری، مولانا محمد بخش مسلم، مفتی محمد حسین نعیمی، پیر محمد قاسم مشوری، مفتی محمد حسین قادری، مفتی صاحبداد خان، پیر صاحب گولڑہ شریف،پیر صاحب سیال شریف، پیر صاحب زکوڑی شریف، پیر صاحب بھرچونڈی شریف، پیر صاحب مانکی شریف اوردیگر کثیر علماء ومشائخ علیہم الرحمہ نے حصہ لیا۔
جیل میں ایک دن مجھے معلوم ہوا کہ ایک اور مولوی کو سزائے موت ہوئی ہے اور اسے لایا گیاہے۔ میں نے اس کا نام پوچھا تواس نے کہا،’’ اسے مودودی کہتے ہیں۔ وہ پانی مانگ رہا ہے‘‘۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں پولیس ہر داڑھی والے کو پکڑ لیتی تھی۔ ایسے ہی پولیس نے جماعت اسلامی کا امیر ہونے کی وجہ سے مودودی صاحب کو بھی پکڑ لیا۔حالانکہ مودودی نے اپنے کارکنوں کو تنبیہ کی تھی کہ ’’جو ڈائریکٹ ایکشن میں حصہ لے گا، اسے جماعت اسلامی سے نکال دوں گا‘‘۔ اسی جماعت کے سکھر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نسیم صدیقی کا بیان ہے کہ اس تحریک میں مودودی صاحب کا کوئی حصہ نہیں۔
مولانا نیازی دوسال ایک ماہ چھ دن قید میں رہے۔ اس دوران کئی لوگ معافیاں مانگ کر جیل سے رہا ہوگئے۔ مولانا ظہور الحسن بھوپالی کا رسالہ ہفت روزہ ’’افق‘‘ہے۔ اس میں ان سب لوگوں کے معافی ناموں کی نقل موجود ہے جو تحریک ختم نبوت پر معافیاں مانگ کر جیل سے رہا ہوئے۔
تحریک ختم نبوت 1974ء: 29 مئی1974ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر جو چناب ایکسپریس کے ذریعے سفر کر رہے تھے،قادیانی غنڈوں نے حملہ کرکے بہیمانہ تشدد کیا۔ اس پر پورے ملک میں احتجاج شروع ہوگیا۔عوام کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ طلباء پر ظلم کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اُس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔حکومت کے کسی عہدیدارنے احتجاج پر توجہ نہیں دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ احتجاجی جلسے اور جلوس بالآخر ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان مطالبہ کرنے لگے کہ قادیانیوں کی غیر قانونی اور غیر آئینی سرگرمیوں کو لگام دی جائے۔ ختم نبوت کی اس تحریک میں بھی تمام مکاتبِ فکرکے علماء وعوام شامل تھے البتہ علماء و مشائخ اہلسنت اورختم نبوت کے شیدائیوں کا جوش وجذبہ اپنی مثال آپ تھا ۔
مجلس عمل کے جنرل سیکریٹری ،شارح بخاری علامہ سید محمود احمد رضوی علیہ الرحمہ تھے۔ جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی ، شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری، مولانا محمد ذاکر(جھنگ سے) اور مولاناسید محمد علی (حیدرآبادسے)اُ س وقت قومی اسمبلی کے رکن تھے۔
قائدِ اہلسنت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی علیہ الرحمہ نے 30جون 1974ء کو قرارداد پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ قرارداد کی تائید میں 22 ارکان نے دستخط کئے، بعد میں ان کی تعداد 37ہوگئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دیوبندی مکتبۂ فکر کے مولوی غلام غوث ہزاروی اور مولوی عبدالحکیم نے مفتی محمود کے بارہا اصرار کے باوجود دستخط نہیں کئے۔
مرزائیوں کے لاہوری گروپ نے مولانا کو پچاس لاکھ روپے کی پیشکش کی اور کہا کہ قرارداد سے ہمارا نام نکال دیں،جسے مولانا نورانی نے پائے حقارت سے ٹھکرا دیا۔ جب مذکورہ قرارداد اسمبلی میں پیش ہوئی تو قادیانیوں کے ربوہ گروپ اور لاہور ی گروپ کی طرف سے اسمبلی کے اسپیکر کو یہ درخواست موصول ہوئی کہ ہم بھی اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں۔

